مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ مُؤْتَةَ باب: غزوہ مؤتہ کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَيْشًا اسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ : " فَإِنْ قُتِلَ زَيْدٌ أَوِ اسْتُشْهِدَ فَأَمِيرُكُمْ جَعْفَرٌ فَإِنْ قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ فَأَمِيرُكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ " . ¤ فَأَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ جَعْفَرٌ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ، ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ ؟ . ¤ وَأَتَى خَبَرُهُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ إِلَى النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ : " إِنَّ إِخْوَانَكُمْ لَقَوُا الْعَدُوَّ ، وَإِنَّ زَيْدًا أَخَذَ الرَّايَةَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ بَعْدَهُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ . ¤ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ " [ فَأَمْهَلَ ] . ¤ ثُمَّ أَمْهَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ ثُمَّ أَتَاهُمْ ، فَقَالَ : " لَا تَبْكُوا عَلَى أَخِي بَعْدِ الْيَوْمِ ، ادْعُوا لِي ابْنَيْ أَخِي " قَالَ : فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّنَا أَفْرُخٌ ، قَالَ : " ادْعُوا لِي الْحَلَّاقَ " ، فَجِيءَ بِالْحَلَّاقِ فَحَلَقَ رُؤُوسَنَا ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا مُحَمَّدٌ فَشَبِيهُ عَمِّنَا أَبِي طَالِبٍ ، وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ فَشَبِيهُ خَلْقِي وَخُلُقِي " . ¤ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَأَشَالَهُمَا فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي أَهْلِهِ ، وَبَارِكْ لِعَبْدِ اللَّهِ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ " . قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ : فَجَاءَتْ أُمُّنَا فَذَكَرَتْ يُتْمَنَا [ وَجَعَلَتْ تَفْرَحُ ] ، فَقَالَ : " الْعَيْلَةَ تَخَافِينَ عَلَيْهِمْ وَأَنَا وَلِيُّهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ؟ ! " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ بَعْضَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبدالله بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم روانہ کی آپ نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کیا اور ارشاد فرمایا : اگر زید قتل ہو جائے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) شہید ہو جائے ، تو تمہارا امیر جعفر ہو گا اگر وہ قتل ہو جائے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اگر وہ شہید ہو جائے ، تو تمہارا امیر عبداللہ بن رواحہ ہو گا ان لوگوں کا دشمن سے سامنا ہوا تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا پکڑ لیا اور لڑائی کی ، یہاں تک کہ شہید ہو گئے پھر سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا لیا وہ لڑائی کرتے رہے ، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے پھر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اسے لیا وہ لڑائی کرتے رہے ، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے پھر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا لے لیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح نصیب کر دی ان لوگوں کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر لوگوں کے پاس تشریف لائے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ” بے شک تمہارے بھائیوں نے دشمن کا سامنا کیا زید نے جھنڈا لیا لڑائی کی ، یہاں تک کہ وہ قتل ہو گیا ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں ) وہ شہید ہو گیا پھر اس کے بعد جعفر بن ابوطالب نے جھنڈا لیا اس نے لڑائی کی یہاں تک کہ وہ قتل ہو گیا ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں ) وہ شہید ہو گیا پھر عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈا لیا اس نے لڑائی کی ، یہاں تک کہ وہ قتل ہو گیا ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں ) وہ شہید ہو گیا پھر وہ جھنڈا اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد بن ولید نے لیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے فتح نصیب کی “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن تک آل جعفر کو مہلت دی تین دن کے بعد آپ ان کے پاس تشریف لائے ، اور ارشاد فرمایا : آج کے بعد تم میرے بھائی پر نہ رونا میرے بھتیجوں کو میرے پاس لے کے آؤ راوی کہتے ہیں : ہمیں لایا گیا تو ہم چھوٹے بچے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نائی کو میرے پاس بلا کے لاؤ نائی کو لایا گیا تو اس نے ہمارے سر مونڈ دیے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک محمد ( بن جعفر ) کا تعلق ہے ، تو وہ ہمارے چچا جناب ابوطالب کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ، اور جہاں تک عبداللہ ( بن جعفر ) کا تعلق ہے ، تو وہ ظاہری شکل و صورت اور اخلاق میں میرے ساتھ مشابہت رکھتا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا آپ نے میرے دونوں ہاتھ بلند کیے ، اور پھر دعا کی اے اللہ جعفر کے بعد ان کے اہل خانہ کا نگران ہو جا اور عبداللہ کے سودے میں برکت رکھ دے یہ دعا آپ نے تین مرتبہ کی راوی کہتے ہیں : ہماری والدہ تشریف لائیں انہوں نے ہماری یتیمی کا ذکر کیا اور اس حوالے سے غم کا اظہار کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تمہیں ان کے حوالے سے فقر و فاقہ کا اندیشہ ہے ؟ میں دنیا اور آخرت میں ان کا ولی ہوں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔