مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَةِ الْقَضَاءِ باب: غزوہ حدیبیہ اور عمرہ قضاء کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ : إِنِّي لَمِنْ أَحَدِ الرَّهْطِ الَّذِينَ ذَكَرَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ : ( لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ) قَالَ : إِنِّي لَآخُذُ بِبَعْضِ أَغْصَانِ الشَّجَرَةِ الَّتِي بَايَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّاسَ تَحْتَهَا أُظِلُّهُ ، قَالَ : فَبَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ إِلَّا أَنَّ الرَّبِيعَ بْنَ أَنَسٍ قَالَ : عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ أَوْ عَنْ غَيْرِهِ . ¤سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اُن افراد میں سے ایک تھا ، جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ( اس آیت میں ) کیا ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” میں تمہیں سواری کے لیے ، دینے کے لیے ( اضافی جانور ) نہیں پاتا ہوں “ انہوں نے بتایا : میں اُس درخت شاخیں پکڑے ہوئے تھا ، جس کے نیچے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لے رہے تھے میں آپ پر سایہ کیے ہوئے تھے ، راوی کہتے ہیں : ہم نے آپ کی بیعت اس بات پر کی تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند عمدہ ہے ، البتہ ربیع بن انس نے یہ بات بیان کی ہے کہ یہ ابوالعالیہ کے حوالے سے ، یا اُس کے علاوہ کسی اور کے حوالے سے منقول ہے ۔