مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَةِ الْقَضَاءِ باب: غزوہ حدیبیہ اور عمرہ قضاء کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ حِينَ أَخْبَرَهُ عُثْمَانُ أَنَّ سُهَيْلًا أَرْسَلَهُ إِلَيْهِ قَوْمُهُ فَصَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يَرْجِعَ عَنْهُمْ هَذَا الْعَامَ ، وَيُخَلُّوهَا قَابِلًا ثَلَاثًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سُهَيْلٌ سَهُلَ عَلَيْكُمُ الْأَمْرُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُؤَمِّلُ بْنُ وَهْبٍ الْمَخْزُومِيُّ ، تَفَرَّدَ عَنْهُ ابْنَهُ عَبْدُ اللَّهِ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حدیبیہ کے سال ، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ سہیل کو اس کی قوم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا ہے ، تاکہ وہ آپ کے ساتھ یہ طے کر لیں کہ آپ اس سال واپس چلے جائیں گے اور اگلے سال آپ آ سکیں گے ، تو آپ نے فرمایا : سہیل ( آنے لگا ) ہے ، اب معاملہ تمہارے لئے سہل ( یعنی آسمان ) ہو جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مؤمل بن وہب مخزومی ہے ، اس کا بیٹا عبداللہ اس سے روایت نقل کرنے میں منفرد ہے ، اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔