حدیث نمبر: 10185
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : أَشَهِدْتَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . قُلْتُ : فَمَا كَانَ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : قَمِيصٌ مِنْ قُطْنٍ ، وَجُبَّةٌ مَحْشُوَّةٌ ، وَرِدَاءٌ ، وَسَيْفٌ ، وَرَأَيْتُ النُّعْمَانَ بْنَ مُقْرِنٍ الْمُزَنِيَّ قَائِمًا عَلَى رَأْسِهِ ، وَقَدْ رَفَعَ أَغْصَانَ الشَّجَرَةِ عَنْ رَأْسِهِ يُبَايِعُونَهُ . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ فِي الْحُدَيْبِيَةِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا : کیا آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت رضوان میں شریک ہوئے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے دریافت کیا : اُس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا پہنا ہوا تھا ؟ انہوں نے بتایا : اون کی بنی ہوئی قمیص تھی اور ایک بھرا ہوا جبہ تھا ، ایک چادر تھی اور ایک تلوار تھی ۔ میں نے سیدنا نعمان بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے تھے اور آپ کے سر سے درخت کی شاخیں اُٹھا رہے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لے رہے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ، ایک حدیث غزوہ حدیبیہ کے بارے میں منقول ہے ، لیکن وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحییٰ بن عبداللہ تیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10185
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (535)»