مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَةِ الْقَضَاءِ باب: غزوہ حدیبیہ اور عمرہ قضاء کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ النَّاسَ لِلْبَيْعَةِ ، فَقَامَ أَبُو سِنَانِ بْنُ مِحْصَنٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُبَايِعُكَ عَلَى مَا فِي نَفْسِكَ قَالَ : " وَمَا فِي نَفْسِكَ ؟ " قَالَ : أَضْرِبُ بِسَيْفِي بَيْنَ يَدَيْكَ حَتَّى يُظْهِرَكَ اللَّهُ أَوْ أُقْتَلَ ، فَبَايَعَهُ ، وَبَايَعَ النَّاسَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي سِنَانٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ حدیبیہ کے موقع پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلوایا ، تو ابوسنان بن محصن کھڑے ہوئے ، اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس چیز پر آپ کی بیعت کروں گا ، جو میرے من میں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے من میں کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یہ کہ میں اپنے تلوار کے ذریعے آپ کے سامنے لڑائی کرتا رہوں ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کو غلبہ عطا کر دے ، یا میں شہید ہو جاؤں ، تو انہوں نے اس بات پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی اور لوگوں نے بھی سیدنا ابوسنان رضی اللہ عنہ کی بیعت کے مطابق بیعت کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ متروک ہے ۔