مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَةِ الْقَضَاءِ باب: غزوہ حدیبیہ اور عمرہ قضاء کا بیان
وَعَنْ عُمَرَ - يَعْنِي ابْنَ الْخَطَّابِ - أَنَّهُ قَالَ : اتَّهِمُوا الرَّأْيَ عَلَى الدِّينِ - فَذَكَرَ الْحُدَيْبِيَةَ إِلَى أَنْ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَكْتُبُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَهْلِ مَكَّةَ ، فَقَالَ : " اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " فَقَالُوا : لَوْ نَرَى ذَلِكَ صَدَّقْنَا ، وَلَكِنِ اكْتُبْ كَمَا كُنْتَ تَكْتُبُ : بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ قَالَ : فَرَضِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبَيْتُ ، حَتَّى قَالَ لِي : : يَا عُمَرُ ، تَرَانِي قَدْ رَضِيتُ وَتَأْبَى ؟ " قَالَ : فَرَضِيتُ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : دین کے بارے میں اپنی رائے کو غلط قرار دو ! پھر انہوں نے غزوہ حدیبیہ کے متعلق پوری حدیث ذکر کی ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ” جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور اہل مکہ کے درمیان معاہدہ تحریر کروایا ، تو آپ نے یہ فرمایا : تم یہ لکھو : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے ، تو کفار نے یہ کہا: اگر ہم اس بات کو ٹھیک سمجھتے ہوتے تو ہم اس کی تصدیق کر دیتے ، لیکن آپ اس طرح لکھیں ، جس طرح پہلے لکھا جاتا تھا : اے اللہ ! تیرے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے راضی ہو گئے ، اور میں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا ۔ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے عمر ! تم مجھے دیکھ رہے ہو کہ میں راضی ہو چکا ہوں ، اور تم پھر بھی انکار کر رہے ہو ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں راضی ہو گیا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، لیکن وہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔