مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَةِ الْقَضَاءِ باب: غزوہ حدیبیہ اور عمرہ قضاء کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ وَكَانَ يَقَعُ مِنْ أَغْصَانِ الشَّجَرَةِ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَسُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : " اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " . فَأَخَذَ سُهَيْلٌ بِيَدِهِ ، فَقَالَ : مَا نَعْرِفُ الرَّحْمَنَ الرَّحِيمَ ، اكْتُبْ فِي قَضِيَّتِنَا مَا نَعْرِفُ ، فَقَالَ : " اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ " فَكَتَبَ " . ¤ هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ أَهْلَ مَكَّةَ " فَأَمْسَكَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو بِيَدِهِ فَقَالَ : لَقَدْ ظَلَمْنَاكَ إِنْ كُنْتَ رَسُولَهُ ، اكْتُبْ فِي قَضِيَّتِنَا مَا نَعْرِفُ قَالَ : " اكْتُبْ هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ " فَكَتَبَ . ¤ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ خَرَجَ عَلَيْنَا ثَلَاثُونَ شَابًّا عَلَيْهِمُ السِّلَاحُ ، فَثَارُوا فِي وُجُوهِنَا فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ اللَّهُ أَبْصَارَهُمْ فَقُمْنَا إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ جِئْتُمْ فِي عَهْدِ أَحَدٍ ؟ أَوْ هَلْ جَعَلَ لَكُمْ [ أَحَدٌ ] أَمَانًا ؟ " ، قَالُوا : لَا ، فَخَلَّى سَبِيلَهُمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ( وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا ) . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم حدیبیہ میں ایک درخت کی جڑ کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے یہ وہ موقع ہے ، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے ، درخت کی شاخیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر آ رہی تھیں ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور ( مشرکین کا نمائندہ ) سہیل بن عمرو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم یہ لکھو ! اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ، تو سہیل نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا: ہمیں لفظ ” رحمان “ اور ” رحیم “ کا پتہ نہیں ہے ، آپ ہمارے معروف طریقے کے مطابق تحریر کروائیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ لکھو : ” اے اللہ تیرے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے “ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وہ لکھ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ لکھو ! یہ وہ معاہدہ ہے ، جو اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اہل مکہ کے ساتھ کر رہے ہیں ، تو سہیل بن عمرو نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولے : ہم آپ کے ساتھ زیادتی کریں گے کہ اگر آپ اس کے رسول ہوں ، آپ ہمارے معروف طریقے کے مطابق لکھیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ لکھو کہ یہ وہ معاہدہ ہے ، جو محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب کر رہے ہیں ، ویسے میں اللہ کا رسول بھی ہوں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لکھ دیا ، ابھی یہ حضرات یہاں موجود تھے کہ اسی دوران چالیس نوجوان نکل کر ہمارے پاس آ گئے ، ان کے پاس ہتھیار موجود تھے ، وہ ہمارے سامنے آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف دعا کی ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بینائی گرفت میں لے لی ، ہم اُٹھ کر ان کے پاس گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم کسی کے عہد میں آئے ہو ؟ کیا کسی نے تمہارے لئے امان دی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” وہی وہ ذات ہے جس نے مکہ کے قریب ( حدیبیہ میں ) ان ( کفار مکہ ) کے ہاتھ ، تم سے ، اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے ، اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غلبہ عطا کر دیا تھا ، اور تم جو عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کو دیکھنے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔