مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَةِ الْقَضَاءِ باب: غزوہ حدیبیہ اور عمرہ قضاء کا بیان
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الشَّجَرَةِ ، وَيَوْمَ الْهَدْيِ مَعْكُوفًا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ مَحِلَّهُ ، وَأَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، مَا يَحْمِلُكَ عَلَى أَنْ تُدْخِلَ هَؤُلَاءِ عَلَيْنَا ، وَنَحْنُ كَارِهُونَ ؟ قَالَ : " هَؤُلَاءِ خَيْرٌ مِنْكَ وَمِنْ أَجْدَادِكَ ، يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤یزید بن مالک نے ، اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ درخت والے دن ( یعنی صلح حدیبیہ کے موقع پر ) اور ہدی والے دن ، جب وہ اپنے مقام تک پہنچنے سے پہلے روک دی گئی تھیں ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے ، مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ کو کس چیز نے اس بات کی ترغیب دی کہ آپ ان لوگوں کو ہم پر لے آئیں ، جبکہ ہم اسے ناپسند کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ لوگ تم سے اور تمہارے باپ دادا سے زیادہ بہتر ہیں ، یہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس ہے اور وہ متروک ہے ۔