مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَةِ الْقَضَاءِ باب: غزوہ حدیبیہ اور عمرہ قضاء کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كُنَّا بَعَسَفَانَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ عُيُونَ الْمُشْرِكِينَ الْآنَ عَلَى ضَجْنَانَ ، فَأَيُّكُمْ يَعْرِفُ طَرِيقَ ذَاتِ الْحَنْظَلِ ؟ " . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ أَمْسَى : " هَلْ مِنْ رَجُلٍ يَنْزِلُ فَيَسْعَى بَيْنَ يَدَيِ الرِّكَابِ ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَنَزَلْتُ ، فَجَعَلَتِ الْحِجَارَةُ تَنْكُبُهُ ، وَالشَّجَرُ يَتَعَلَّقُ بِثِيَابِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ارْكَبْ " ثُمَّ نَزَلَ آخَرُ ، فَجَعَلَتِ الْحِجَارَةُ [ تَنْكُبُهُ ] وَالشَّجَرُ يَتَعَلَّقُ بِثِيَابِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ارْكَبْ " . ¤ ثُمَّ وَقَعْنَا عَلَى الطَّرِيقِ حَتَّى سِرْنَا فِي ثَنِيَّةٍ ، يُقَالُ لَهَا : الْحَنْظَلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مَثَلُ هَذِهِ الثَّلَاثَةِ إِلَّا كَمَثَلِ الْبَابِ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ ( قِيلَ لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ ) لَا يَجُوزُ أَحَدٌ اللَّيْلَةَ هَذِهِ الثَّنِيَّةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ " . ¤ فَجَعَلَ النَّاسُ يُسْرِعُونَ وَيَجُوزُونَ ، وَكَانَ آخِرَ مَنْ جَازَ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ فِي آخِرِ الْقَوْمِ قَالَ : فَجَعَلَ النَّاسُ يُرْكِبُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى تَلَاحَقْنَا قَالَ : فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَزَلْنَا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے ، جب ہم ” عسفان “ کے مقام پر پہنچے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مشرکین کے جاسوس ، اس وقت ” ضجنان “ کے مقام پر ہیں ، تو تم میں سے کون شخص ” حنظل “ والے راستے سے واقف ہے ؟ شام کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا کوئی شخص اتر کر سواروں کے آگے آگے دوڑے گا ، تو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایسا کروں گا ، وہ صاحب نیچے اترے تو ان کے راستے میں پتھر آئے ، جو ان کو چبھ رہے تھے اور درخت آئے جو ان کے کپڑوں سے چمٹ رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سوار ہو جاؤ ! پھر ایک اور صاحب اترے ، تو پتھر انہیں بھی چبھنے لگے اور درخت ان کے کپڑوں کے ساتھ بھی الجھنے لگے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سوار ہو جاؤ ! پھر ہم ایک ایسے راستے پر آئے ، یہاں تک کہ ہم ایک گھاٹی پر آ گئے ، جس کا نام ” حنظل “ تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس گھاٹی کی مثال اُس دروازے کی مانند ہے ، جس میں بنی اسرائیل داخل ہوئے تھے ، جب اُن سے یہ کہا: گیا : تم اس دروازے سے سجدے کی حالت میں داخل ہو ، اور تم لفظ ” حطۃ “ کہو ، ہم تمہارے گناہوں کی مغفرت کر دیں گے ، آج رات جو شخص بھی اس گھاٹی سے گزرے گا ، اس کی مغفرت ہو جائے گی ، تو لوگ تیزی سے چل کر اُس کو پار کرنے لگے ، اس میں سے گزرنے والے آخری فرد سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ تھے ، جو لوگوں میں سب سے پیچھے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : لوگ ایک دوسرے کو سوار کروانے لگے ، یہاں تک کہ ہم ایک دوسرے سے مل گئے ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا ، تو ہم نے بھی پڑاؤ کر لیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔