❮
❯
حدیث نمبر: 10176
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : غَدَا عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ عَلَى لِقَاحِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَاقَهَا ، قَالَ سَلَمَةُ : فَخَرَجْتُ بِقَوْسِي وَنَبْلِي - وَكُنْتُ أَرْمِي الصَّيْدَ - حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ نَظَرْتُ فَإِذَا هُمْ يَطْرُدُونَهَا ، فَغَدَوْتُ فِي الْخَيْلِ فِي سِلْعٍ ، ثُمَّ صِحْتُ : يَا صَبَاحَاهُ .
فَانْتَهَى صِيَاحِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصِيحَ فِي النَّاسِ : الْفَزَعَ الْفَزَعَ ، وَخَرَجْتُ أَرْمِيهِمْ ، وَأَقُولُ : خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ ، فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ رَأَيْتُ خَيْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ تَخَلَّلُ الشَّجَرَ فَأَلْحَقَتْهُمْ ثَمَانِيَةُ فُرْسَانٍ ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَحِقَهُمْ أَبُو قَتَادَةَ بْنُ رِبْعِيٍّ ، فَطَعَنَ رَجُلًا مَنْ بَنِي فَزَارَةَ يُقَالُ لَهُ : سَعْدٌ ، فَنَزَعَ بُرْدَهُ ، فَجَلَّلَهُ إِيَّاهَا ، ثُمَّ مَضَى فِي إِثْرِ الْعَدُوِّ مَعَ الْفُرْسَانِ .
فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ فَزِعَ النَّاسُ وَهُمْ يَقُولُونَ : أَبُو قَتَادَةَ مَقْتُولٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ بِأَبِي قَتَادَةَ ، وَلَكِنَّهُ قَتِيلُ أَبِي قَتَادَةَ ، خَلُّوا عَنْهُ وَعَنْ سَلَبِهِ " ، وَقَالَ : " أَمْعِنُوا فِي طَلَبِ الْقَوْمِ " . فَأَمْعَنُوا فَاسْتَنْقَذُوا مَا اسْتَنْقَذُوا مِنَ اللِّقَاحِ ، وَذَهَبُوا بِمَا بَقِيَ .
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ : وَفِي الْحَدِيثِ وَكَانَ يُسَمِّيهِمْ - الَّذِينَ خَرَجُوا فِي طَلَبِ اللِّقَاحِ - : عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ ، وَالْمِقْدَادُ [ بْنُ عَمْرٍو ] وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ : ابْنُ الْأَسْوَدِ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ ، وَمَحْرِزُ بْنُ نَضْلَةَ الْأَسَدِيُّ حَلِيفُ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ ، قِيلَ : لَمْ يُقْتَلْ مِنَ الْقَوْمِ غَيْرُهُ .
وَمِنَ الْأَنْصَارِ : سَعْدُ بْنُ زَيْدٍ الْأَشْهَلِيُّ وَهُوَ أَمِيرُ الْقَوْمِ ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ الْأَشْهَلِيُّ ، وَظُهَيْرُ بْنُ عَمْرٍو الْحَارِثِيُّ ، وَأَبُو قَتَادَةَ بْنُ رِبْعِيٍّ ، وَمُعَاذُ بْنُ مَاعِصٍ الزُّرَقِيُّ .
وَكَانَ أَبُو عَيَّاشٍ الزُّرَقِيُّ أَحَدَ النَّفَرِ الْخَمْسَةِ قَالَ : أَقْبَلْتُ عَلَى فَرَسٍ لِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا عَيَّاشٍ ، لَوْ أَعْطَيْتَ هَذَا الْفَرَسَ مَنْ هُوَ أَفَرَسُ مِنْكَ " قَالَ : قُلْتُ : أَنَا أَفْرَسُ الْعَرَبِ ، فَمَا جَرَى الْفَرَسُ خَمْسِينَ ذِرَاعًا طَرَحَنِي ، وَكَسَرَ رِجْلِي ، فَقُلْتُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَحَمَلْتُ عَلَى فَرَسِي ابْنَ عَمِّي مُعَاذَ بْنَ مَاعِصٍ الزُّرَقِيَّ .
قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عیدینہ بن حصن بن حذیفہ نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیوں پر حملہ کیا اور انہیں ہانک کر لے گیا ، سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنی کمان اور اپنے تیروں کو لے کر نکلا ، میں شکار کے لئے جانا چاہ رہا تھا ۔ جب میں ” ثنیۃ الوداع “ کے مقام پر پہنچا ، تو میں نے دیکھا کہ وہ لوگ وہاں سے انہیں لے کر جا رہے تھے ، تو میں گھوڑے پر سوار ہو کر ” سلع “ پہاڑ پر چڑھا اور میں نے بلند آواز میں پکارا : خطرہ سے ، میری پکار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی ، لوگوں کے درمیان یہ اعلان کر دیا گیا کہ خطرے کی بات ہے ، خطرے کی بات ہے ، میں نکلا اور ان لوگوں کو تیر مارنے لگا ، میں یہ کہہ رہا تھا : اسے سنبھالو میں ابن اکوع ہوں ، تھوڑی دیر گزرنے کے بعد ، میں نے درختوں کے درمیان میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسواروں کو آتے ہوئے دیکھا آٹھ گھڑ سوار ان تک پہنچ گئے ، ان تک پہنچنے والوں میں سب سے پہلے سیدنا ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ تھے ۔ انہوں نے بنو فزارہ سے تعلق رکھنے والے سعد نامی ایک شخص کو زخمی کیا ، انہوں نے اس کی چادر اتاری اور وہ اس پر ڈال دی ، پھر وہ دیگر شہسواروں کے ساتھ دشمن کے پیچھے چلے گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے لوگ پریشان تھے اور یہ کہہ رہے تھے : ابوقتادہ قتل ہو چکا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ابوقتادہ نہیں ہے ، بلکہ یہ ابوقتادہ کے ہاتھوں مرنے والا شخص ہے ، تم اسے اور اس کے سامان کو چھوڑ دو ، آپ نے ارشاد فرمایا : دشمن کا پیچھا جلدی سے کرو ، لوگوں نے تیزی سے ایسا کیا اور جو اونٹنیاں بچ گئی تھیں ، انہیں لے لیا اور جو باقی تھیں دشمن انہیں لے گیا ۔ محمد بن طلحہ بیان کرتے ہیں : روایت میں انہوں نے ان لوگوں کے نام بیان کیے ہیں ، جو اونٹنیوں کے پیچھے گئے تھے ۔ وہ سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ سیدنا مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ ہیں ، جنہیں ابن اسود کہا: جاتا ہے ، اور یہ بنوزہرہ کے حلیف ہیں ، سیدنا محرز بن نضلہ اسدی ہیں ، جو بنو عبد شمس کے حلیف ہیں ۔ ایک قول کے مطابق ان لوگوں میں سے ان کے علاوہ اور کوئی قتل نہیں ہوا انصار سے تعلق رکھنے والے سیدنا سعد بن زید اشہلی رضی اللہ عنہ ہیں ، جو ان لوگوں کے امیر تھے ۔ سیدنا عباد بن بشر اشہلی رضی اللہ عنہ سیدنا ظہیر بن عمرو حارثی رضی اللہ عنہ ہیں ، سیدنا ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ ہیں اور سیدنا معاذ بن ماعص زرقی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ سیدنا ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ ان پانچ افراد میں ایک تھے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کے آیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوعیاش ! اگر تم اپنا یہ گھوڑا اس شخص کو دے دو جو تم سے زیادہ اچھا شہسوار ہو ، تو یہ مناسب ہو گا میں نے عرض کی : میں عربوں کا سب سے بہتر شہسوار ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : ابھی میرا گھوڑا پچاس ذراع تک گیا تھا کہ اس نے مجھے گرا دیا اور میری ٹانگ ٹوٹ گئی ، میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، پھر میں نے اپنا گھوڑا اپنے چچازاد معاذ بن ماعص زرقی کو دے دیا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10176
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6278) ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 6278»