حدیث نمبر: 10178
وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ نَاجِيَةَ أَوْ نَاجِيَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : لَمَّا كُنَّا بِالْغَمِيمِ لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَبَرَ قُرَيْشٍ ; أَنَّهَا بَعَثَتْ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فِي جَرِيدَةِ خَيْلٍ تَتَلَقَّى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَلْقَاهُمْ ، وَكَانَ بِهِمْ رَحِيمًا . ¤ فَقَالَ : " مَنْ رَجُلٌ يَعْدِلُنَا عَنِ الطَّرِيقِ ؟ " فَقُلْتُ : أَنَا بِأَبِي أَنْتَ ، فَأَخَذْتُ بِهِمْ فِي طَرِيقٍ قَدْ كَانَ بِهَا حَزْنُ فَدَافِدَ وَعُقَابٍ ، فَاسْتَوَتْ بِنَا الْأَرْضُ حَتَّى أَنْزَلَهُ عَلَى الْحُدَيْبِيَةِ وَهِيَ نَزَحٌ . ¤ فَأَلْقَى سَهْمًا أَوْ سَهْمَيْنِ مِنْ كِنَانَتِهِ ، ثُمَّ بَصَقَ فِيهَا ، ثُمَّ دَعَا فَفَارَتْ عُيُونًا حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ أَوْ نَقُولُ : لَوْ شِئْنَا لَاغْتَرَفْنَا بِأَيْدِينَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جندب بن ناجیہ رضی اللہ عنہ ، راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : سیدنا ناجیہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم ” غمیم “ کے مقام پر موجود تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے بارے میں یہ اطلاع ملی کہ انہوں نے کچھ گھڑ سواروں کے ساتھ خالد بن ولید کو بھیجا ہے ، تاکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے مقابلہ کرنا پسند نہیں تھا ، کیونکہ آپ ان کے بارے میں مہربان تھے ، آپ نے فرمایا : کیا کوئی شخص ہمیں راستے سے ہٹا کر لے کے چل سکتا ہے ؟ میں نے عرض کی : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، میں ایسا کرتا ہوں ، پھر میں اُن حضرات کو ایک اور راستے سے لے گیا ، جو دشوار گزار تھا ، اور وہاں گھاٹیاں تھیں ، یہاں تک کہ ہم جب ہموار زمین کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” حدیبیہ “ کے مقام پر پڑاؤ کیا ، وہ ایک کنواں تھا جو خشک ہو چکا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش میں سے ایک یا دو تیر نکالے ، آپ نے اس میں اپنا لعاب دہن مبارک ڈالا ، پھر آپ نے دعا کی ، تو اس میں سے چشمے جاری ہو گئے ، یہاں تک کہ میں یہ سوچ رہا تھا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہم یہ سوچ رہے تھے کہ اگر ہم چاہیں ، تو ہاتھ کے ذریعے اُس میں سے پانی لے سکتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10178
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1727)»