حدیث نمبر: 10175
وَعَنْ شَبَّابٍ الْعُصْفُرِيِّ قَالَ : سَنَةَ سِتٍّ مِنَ الْهِجْرَةِ كَانَتْ غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، وَفِي هَذِهِ الْغَزْوَةِ قَالَ فِيهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا ، وَنَزَلَ فِيهَا الْقُرْآنُ : ( إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ ) الْآيَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ مُوسَى بْنِ زَكَرِيَّا التَّسْتُرِيِّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا شباب عصفری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہجرت کے چھٹے سال ، غزوہ بنو مصطلق ہوا تھا ، اور اس غزوہ کے دوران جھوٹا الزام عائد کرنے والوں نے الزام عائد کیا تھا ، اور اس بارے میں قرآن کا یہ حکم نازل ہوا تھا : ” بیشک وہ لوگ ، جنہوں نے چھوٹا الزام لگایا ، جو تم میں سے ایک گروہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد موسیٰ بن زکریا تستری کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10175
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (163/23)»