کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: غزوہ مریسیع ، یہ غزوہ بنو مصطلق ہے
حدیث نمبر: 10172
عَنْ سِنَانِ بْنِ وَبْرَةَ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ الْمُرَيْسِيعِ - غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ - فَكَانَ شِعَارُهُمْ : يَا مَنْصُورُ أَمِتْ أَمِتْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُ الْكَبِيرِ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سنان بن وبره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ مریسیع ، یعنی غزوہ بنو مصطلق کے موقع پر ، ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ان لوگوں کا شعار یہ تھا : اے منصور ! تم موت دے دو ، تم موت دے دو ، تم موت دے دو ، ( یا تم مار دو ! ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10172
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6496)»
حدیث نمبر: 10173
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ ، كُلٌّ قَدْ حَدَّثَنِي بِبَعْضِ حَدِيثِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، قَالَ : بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ بَنِي الْمُصْطَلِقِ يَجْمَعُونَ لَهُ ، قَائِدُهُمُ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ضِرَارٍ أَبُو جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ فَلَمَّا سَمِعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ إِلَيْهِمْ حَتَّى لَقِيَهُمْ عَلَى مَاءٍ لَهُمْ ، يُقَالُ لَهُ : الْمُرَيْسِيعِ مِنْ نَاحِيَةِ قَدِيدٍ إِلَى السَّاحِلِ ، فَتَزَاحَفَ النَّاسُ وَاقْتَتَلُوا ، فَهَزَمَ اللَّهُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، وَقَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ أَبِي ضِرَارٍ أَبَا جُوَيْرِيَةَ ، وَقَتَلَ مَنْ قَتَلَ مِنْهُمْ ، وَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْنَاءَهُمْ وَنِسَاءَهُمْ . ¤ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصَابَ مِنْهُمْ سَبْيًا كَثِيرًا قَسَّمَهُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَكَانَ فِيمَا أَصَابَ يَوْمَئِذٍ مِنَ النِّسَاءِ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ أَبِي ضِرَارٍ سَيِّدَةُ قَوْمِهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : عاصم بن عمر بن قتادہ اور عبداللہ بن ابوبکر اور محمد بن یحیی بن حیان ، ان سب نے مجھے بنو مصطلق کے بارے میں حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ بنو مصطلق کو ان کا قائد حارث بن ابوضرار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اکٹھا کر رہا ہے ، یہ صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے والد ہیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں اطلاع ملی ، تو آپ نکل کر ان لوگوں کی طرف گئے ، یہاں تک کہ ان کے پانی جس کا نام ” مریسیع “ ہے وہاں آپ ان لوگوں تک پہنچ گئے یہ ” قدید “ کے ایک کنارے پر ساحل کی طرف موجود جگہ ہے دونوں طرف سے لوگوں کا مقابلہ ہوا ، جنگ شروع ہوئی ، تو اللہ تعالیٰ نے بنو مصطلق کو پسپا کر دیا اور سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا والد حارث بن ابوضرار قتل ہو گیا ، ان میں سے کئی لوگ قتل ہو گئے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں شامل کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے علاقے سے بہت سے قیدی ملے ، جنہیں آپ نے مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیا اس موقع پر جو خواتین قیدی ہوئی تھیں ، ان میں ایک سیدہ جویریہ بنت ابوضرار رضی اللہ عنہا تھیں ، جو اپنی قوم کی سردار تھیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10173
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (60/24)»
حدیث نمبر: 10174
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : كَانَتْ غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فِي شَعْبَانَ سَنَةِ سِتٍّ ، وَخَرَجَ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ بِعَائِشَةَ مَعَهُ ، أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَخَرَجَ سَهْمُهَا ، وَفِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ قَالَ فِيهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَرَاءَتَهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : غزوہ بنو مصطلق ، شعبان کے مہینے میں سن چھ ہجری میں ہوا تھا ، اور اس غزوہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لے کر گئے تھے ، آپ نے اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کی ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نام نکلا تھا ، یہی وہ غزوہ ہے ، جس کے دوران جھوٹا الزام عائد کرنے والوں نے الزام عائد کیا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برات کے بارے میں حکم نازل کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10174
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (162/23)»
حدیث نمبر: 10175
وَعَنْ شَبَّابٍ الْعُصْفُرِيِّ قَالَ : سَنَةَ سِتٍّ مِنَ الْهِجْرَةِ كَانَتْ غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، وَفِي هَذِهِ الْغَزْوَةِ قَالَ فِيهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا ، وَنَزَلَ فِيهَا الْقُرْآنُ : ( إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ ) الْآيَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ مُوسَى بْنِ زَكَرِيَّا التَّسْتُرِيِّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شباب عصفری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہجرت کے چھٹے سال ، غزوہ بنو مصطلق ہوا تھا ، اور اس غزوہ کے دوران جھوٹا الزام عائد کرنے والوں نے الزام عائد کیا تھا ، اور اس بارے میں قرآن کا یہ حکم نازل ہوا تھا : ” بیشک وہ لوگ ، جنہوں نے چھوٹا الزام لگایا ، جو تم میں سے ایک گروہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد موسیٰ بن زکریا تستری کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10175
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (163/23)»