مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْمُرَيْسِيعِ ، وَهِيَ غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ باب: غزوہ مریسیع ، یہ غزوہ بنو مصطلق ہے
حدیث نمبر: 10174
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : كَانَتْ غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فِي شَعْبَانَ سَنَةِ سِتٍّ ، وَخَرَجَ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ بِعَائِشَةَ مَعَهُ ، أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَخَرَجَ سَهْمُهَا ، وَفِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ قَالَ فِيهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَرَاءَتَهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : غزوہ بنو مصطلق ، شعبان کے مہینے میں سن چھ ہجری میں ہوا تھا ، اور اس غزوہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لے کر گئے تھے ، آپ نے اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کی ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نام نکلا تھا ، یہی وہ غزوہ ہے ، جس کے دوران جھوٹا الزام عائد کرنے والوں نے الزام عائد کیا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برات کے بارے میں حکم نازل کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔