مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْمُرَيْسِيعِ ، وَهِيَ غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ باب: غزوہ مریسیع ، یہ غزوہ بنو مصطلق ہے
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ ، كُلٌّ قَدْ حَدَّثَنِي بِبَعْضِ حَدِيثِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، قَالَ : بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ بَنِي الْمُصْطَلِقِ يَجْمَعُونَ لَهُ ، قَائِدُهُمُ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ضِرَارٍ أَبُو جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ فَلَمَّا سَمِعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ إِلَيْهِمْ حَتَّى لَقِيَهُمْ عَلَى مَاءٍ لَهُمْ ، يُقَالُ لَهُ : الْمُرَيْسِيعِ مِنْ نَاحِيَةِ قَدِيدٍ إِلَى السَّاحِلِ ، فَتَزَاحَفَ النَّاسُ وَاقْتَتَلُوا ، فَهَزَمَ اللَّهُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، وَقَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ أَبِي ضِرَارٍ أَبَا جُوَيْرِيَةَ ، وَقَتَلَ مَنْ قَتَلَ مِنْهُمْ ، وَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْنَاءَهُمْ وَنِسَاءَهُمْ . ¤ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصَابَ مِنْهُمْ سَبْيًا كَثِيرًا قَسَّمَهُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَكَانَ فِيمَا أَصَابَ يَوْمَئِذٍ مِنَ النِّسَاءِ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ أَبِي ضِرَارٍ سَيِّدَةُ قَوْمِهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : عاصم بن عمر بن قتادہ اور عبداللہ بن ابوبکر اور محمد بن یحیی بن حیان ، ان سب نے مجھے بنو مصطلق کے بارے میں حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ بنو مصطلق کو ان کا قائد حارث بن ابوضرار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اکٹھا کر رہا ہے ، یہ صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے والد ہیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں اطلاع ملی ، تو آپ نکل کر ان لوگوں کی طرف گئے ، یہاں تک کہ ان کے پانی جس کا نام ” مریسیع “ ہے وہاں آپ ان لوگوں تک پہنچ گئے یہ ” قدید “ کے ایک کنارے پر ساحل کی طرف موجود جگہ ہے دونوں طرف سے لوگوں کا مقابلہ ہوا ، جنگ شروع ہوئی ، تو اللہ تعالیٰ نے بنو مصطلق کو پسپا کر دیا اور سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا والد حارث بن ابوضرار قتل ہو گیا ، ان میں سے کئی لوگ قتل ہو گئے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں شامل کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے علاقے سے بہت سے قیدی ملے ، جنہیں آپ نے مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیا اس موقع پر جو خواتین قیدی ہوئی تھیں ، ان میں ایک سیدہ جویریہ بنت ابوضرار رضی اللہ عنہا تھیں ، جو اپنی قوم کی سردار تھیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔