مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ باب: بئر معونہ کے دن ، جن حضرات نے جام شہادت نوش کیا ، ان کا بیان
حدیث نمبر: 10136
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِيَّاكُمْ وَالشَّهَادَاتِ ، فَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ ، فَاشْهَدُوا لِسَرِيَّةٍ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُصِيبُوا ، فَنَزَلَ فِيهِمُ الْقُرْآنُ : أَنْ أَبْلِغُوا عَنَّا قَوْمَنَا : أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا ، فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم گواہیاں دینے سے بچو ! اگر تم نے ضرور ایسا کرنا ہو ، تو اس مہم کے حق میں گواہی دو ، جن لوگوں کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا ، اور پھر انہیں شہادت نصیب ہوئی ، اُن کے بارے میں قرآن نازل ہوا : ” ( انہوں نے کہا: ) تم ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو ! کہ ہم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو چکے ہیں ، وہ ہم سے راضی ہے ، اور اس نے ہمیں راضی کر دیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔