مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ بِئْرِ مَعُونَةَ باب: غزوہ بئر معونہ کا بیان
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : ثُمَّ غَزْوَةُ الْمُنْذِرِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ إِلَى بِئْرِ مَعُونَةَ ، وَبَعَثَ مَعَهُمُ الْمُطَّلِبَ السُّلَمِيَّ لِيَدُلَّهُمْ عَلَى الطَّرِيقِ ، فَبَعَثَ أَعْدَاءُ اللَّهِ إِلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ يَسْتَمِدُّونَهُ ، فَأَمَدُّوهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، فَقُتِلَ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو وَأَصْحَابُهُ إِلَّا عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ ، فَإِنَّهُمْ أَسَرُوهُ فَاسْتَحْيَوْهُ حَتَّى قَدِمُوا بِهِ مَكَّةَ ، فَهُوَ دَفَنَ خُبَيْبَ بْنَ عَدِيٍّ ، وَعَرَضَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى عُرْوَةَ بْنِ الصَّلْتِ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ : أَنْ يُؤَمِّنُوهُ فَأَبَى ، فَقَتَلُوهُ ، فَذُكِرَ لَنَا : أَنَّ الْمُسْلِمِينَ قَالُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ حِينَ أَحَاطَ بِهِمُ الْعَدُوُّ : اللَّهُمَّ إِنَّا لَا نَجِدُ مَنْ يُبَلِّغُ عَنَّا رَسُولَكَ غَيْرَكَ ، اللَّهُمَّ فَاقْرَأْ مِنَّا عَلَيْهِ السَّلَامَ ، وَأَخْبِرْهُ خَبَرَنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ إِذَا تُوبِعَ عَلَيْهِ . ¤عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : پھر سیدنا منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ والا غزوہ ہوا ، جن کا تعلق بنو ساعدہ سے تھا ، اور وہ ” بئر معونہ “ کی طرف گئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہمراہ ” مطلب سلمی “ کو بھیجا تھا ، تاکہ وہ راستے کے بارے میں ان کی رہنمائی کرے ، پھر اللہ کے دشمنوں نے عامر بن طفیل کو پیغام بھیجا اور اس سے مدد مانگی ، تو اس نے مسلمانوں کے خلاف اُن کی مدد کی ، اس نے سیدنا منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو قتل کروا دیا ، صرف سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ بچ گئے ، ان لوگوں نے انہیں قید کر لیا ، انہیں ان سے حیاء آئی وہ لوگ انہیں لے کر مکہ آ گئے ، یہی وہ صاحب ہیں ، جنہوں نے سیدنا خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کو دفن کیا تھا ” بئر معونہ “ کے دن مشرکین نے عروہ بن صلت کو پیشکش کی کہ وہ انہیں امان دیدیتے ہیں ، لیکن انہوں نے یہ نہیں مانا ، تو ان لوگوں نے انہیں بھی قتل کر دیا ، ہمارے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ ” بئر معونہ “ کے دن جب دشمن نے ان لوگوں کو گھیر لیا تھا ، تو انہوں نے یہ کہا: اے اللہ ! ہمیں ایسا کوئی شخص نہیں ملتا ، جو ہمارے بارے میں تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پیغام پہنچائے ، تیرے علاوہ اور کوئی ایسا نہیں ہے ، اے اللہ ! تو ہماری طرف سے انہیں سلام پہنچا دینا اور انہیں ہماری صورت حال کے بارے میں بتا دینا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہو گی ، جب اس کی متابعت کی گئی ہو ۔