حدیث نمبر: 10130
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَغَيْرِهِ ; أَنَّ عَامِرَ بْنَ مَالِكٍ الَّذِي يُدْعَى مُلَاعِبَ الْأَسِنَّةِ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُشْرِكٌ ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْإِسْلَامَ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَا أَقْبَلُ هَدِيَّةَ مُشْرِكٍ " . ¤ فَقَالَ عَامِرُ بْنُ مَالِكٍ : ابْعَثْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ رُسُلِكَ مَنْ شِئْتَ فَأَنَا لَهُمْ جَارٌ ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَهْطًا فِيهِمُ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو السَّاعَدِيُّ - وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ : أُعْتِقَ لِيَمُوتَ - عَيْنًا فِي أَهْلِ نَجْدٍ ، فَسَمِعَ بِهِمْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ ، فَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، فَنَفَرُوا مَعَهُ فَقَتَلَهُمْ بِبِئْرِ مَعُونَةَ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، أَخَذَهُ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ فَأَرْسَلَهُ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَيْنِهِمْ ، وَكَانَ فِيهِمْ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ . ¤ فَزَعَمَ لِي عُرْوَةُ : أَنَّهُ قُتِلَ يَوْمَئِذٍ فَلَمْ يُوجَدْ جَسَدُهُ حِينَ دَفَنُوهُ ، يَقُولُ عُرْوَةُ : كَانُوا يَرَوْنَ الْمَلَائِكَةَ هِيَ دَفَنَتْهُ ، فَقَالَ حَسَّانُ يُعَرِّضُ عَلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ : ¤ بَنِي أُمِّ الْبَنِينَ أَلَمْ يَرُعْكُمْ وَأَنْتُمْ مِنْ ذَوَائِبِ أَهْلِ نَجْدِ تَهَكُّمُ عَامِرٍ بِأَبِي بَرَاءٍ ¤ لِيَخْفِرَهُ وَمَا خَطَأٌ كَعَمْدِ ¤ فَطَعَنَ رَبِيعَةُ بْنُ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ فِي خَفْرَتِهِ عَامِرُ بْنُ مَالِكٍ فِي فَخِذِهِ طَعْنَةً فَقَدَّهُ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبدالرحمن بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : ” عامر بن مالک ، وہ شخص ہے ، جسے ” ملاعب الاسنہ “ کہا: جاتا ہے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ شخص اس وقت مشرک تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے اسلام کی پیشکش کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں کسی مشرک کا تحفہ قبول نہیں کرتا ہوں ، تو عامر بن مالک نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ اپنے پیغام رساں ( یا مبلغین ) افراد میں سے جسے چاہیں بھیج دیں ، میں اُنہیں پناہ دیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ افراد کو بھیجا ، جن میں سے ایک سیدنا منذر بن عمرو ساعدی رضی اللہ عنہ تھے ، یہ وہ صاحب ہیں ، جنہیں ” اعتق لیموت “ کہا: جاتا ہے ، انہیں اہل نجد میں جاسوسی کے لئے بھیجا گیا تھا ، عامر بن طفیل کو ان کے بارے میں پتہ چل گیا ، اس نے بنوسلیم سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہا: ، تو وہ لوگ اُس کے ساتھ روانہ ہوئے ، ان لوگوں نے ان صحابہ کرام کو ” بئر معونہ “ کے پاس قتل کر دیا ، صرف سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ بچ گئے ، عامر بن طفیل نے انہیں پکڑ لیا اور پھر انہیں چھوڑ دیا ، ان لوگوں کے درمیان میں سے صرف وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اُن لوگوں میں ایک سیدنا عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : عروہ نے میرے سامنے یہ بات بیان کی ہے : وہ اُسی دن قتل ہو گئے تھے لیکن دفن کے وقت انہیں ان کا جسم نہیں ملا ، عروہ کہتے ہیں : لوگوں کا یہ خیال تھا کہ فرشتوں نے انہیں دفن کیا تھا ، تو سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے عامر بن طفیل پر طنز کرتے ہوئے یہ اشعار کہے : ” بیٹوں کی ماں کے بیٹو ! تم اہل نجد کے نمایاں حیثیت کے افراد ہو ، کیا یہ چیز تمہیں پریشان نہیں کرتی ، کہ عامر نے ابوبراء کے سامنے تکبر کا مظاہرہ کیا ہے ، کہ اس کی دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کی ہے ، اور خطاء ، عمد کی طرح نہیں ہوتی “ ۔ پھر ربیعہ بن عامر بن مالک نے عامر بن طفیل کے عہد کی خلاف ورزی کرنے پر طعن کیا ، اور عامر بن مالک کے زانوں پر ہتھیار مارا ، جو اس میں سرایت کر گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10130
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (71/19)»