مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ بِئْرِ مَعُونَةَ باب: غزوہ بئر معونہ کا بیان
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ أُحُدٍ بَقِيَّةَ شَوَّالٍ وَذَا الْقَعْدَةِ وَذَا الْحِجَّةِ ، وَوَلَّى تِلْكَ الْحِجَّةُ وَالْمُحَرَّمُ ، ثُمَّ بَعَثَ أَصْحَابَهُ بِئْرَ مَعُونَةَ فِي صَفَرٍ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ مِنْ أُحُدٍ ، فَكَانَ مِنْ حَدِيثِهِمْ كَمَا حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، وَغَيْرُهُمْ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ، قَالُوا : قَدِمَ أَبُو بَرَاءٍ عَامِرُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جَعْفَرٍ مُلَاعِبُ الْأَسِنَّةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ فَعَرَضَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ فَلَمْ يُسْلِمْ ، وَلَمْ يَبْعُدْ مِنَ الْإِسْلَامِ ، وَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، لَوْ بَعَثْتَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَدْعُوهُمْ إِلَى أَمْرِكَ ، رَجَوْتُ أَنْ يَسْتَجِيبُوا لَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنِّي أَخْشَى أَهْلَ نَجْدٍ ، فَقَالَ أَبُو بَرَاءٍ : أَنَا لَهُمْ جَارٌ ، فَابْعَثْهُمْ فَلْيَدْعُوا النَّاسَ إِلَى أَمْرِكَ ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُنْذِرَ بْنَ عَمْرٍو أَخَا بَنِي سَاعِدَةَ بْنِ الْخَزْرَجِ الْمُعْتَقَ لِيَمُوتَ فِي أَرْبَعِينَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، مِنْ خِيَارِهِمْ ، مِنْهُمُ الْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ ، وَحَرَامُ بْنُ مِلْحَانَ أَخُو بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ ، وَعُرْوَةُ بْنُ أَسْمَاءَ بْنِ الصَّلْتِ السُّلَمِيُّ ، وَنَافِعُ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ ، وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، وَرِجَالٌ مُسَمَّوْنَ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ ، فَسَارُوا حَتَّى نَزَلُوا بِئْرَ مَعُونَةَ ، وَهِيَ بِئْرُ أَرْضِ بَنِي عَامِرٍ ، وَحَرَّةُ بَنِي سُلَيْمٍ ، كِلَا الْبَلَدَيْنِ مِنْهَا قَرِيبٌ ، وَهِيَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ أَقْرَبُ ، فَلَمَّا نَزَلُوا بَعَثُوا حَرَامَ بْنَ مِلْحَانَ بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ ، فَلَمَّا أَتَاهُمْ لَمْ يَنْظُرْ فِي كِتَابِهِ حَتَّى غَدَا عَلَى الرَّجُلِ فَقَتَلَهُ ، ثُمَّ اسْتَصْرَخَ بَنِي عَامِرٍ فَأَبَوْا أَنْ يُجِيبُوهُ إِلَى مَا دَعَاهُمْ ، وَقَالُوا : لَنْ نَخْفِرَ أَبَا بَرَاءٍ ، وَقَدْ عَقَدَ لَهُمْ عَقْدًا وَجِوَارًا ، فَاسْتَصْرَخَ عَلَيْهِمْ قَبَائِلَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَصِيَّةَ وَرَعْلًا وَذَكْوَانَ ، فَأَجَابُوهُ إِلَى ذَلِكَ ، فَخَرَجُوا حَتَّى غَشَوُا الْقَوْمَ ، فَأَحَاطُوا بِهِمْ فِي رِحَالِهِمْ ، فَلَمَّا رَأَوْهُمْ أَخَذُوا أَسْيَافَهُمْ فَقَاتَلُوا حَتَّى قُتِلُوا عَنْ آخِرِهِمْ ، إِلَّا كَعْبَ بْنَ زَيْدٍ أَخَا بَنِي دِينَارِ بْنِ النَّجَّارِ ، فَإِنَّهُمْ تَرَكُوهُ وَبِهِ رَمَقٌ ، فَارْتَثَّ مِنْ بَيْنِ الْقَتْلَى ، فَعَاشَ حَتَّى قُتِلَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ ، وَكَانَ فِي السَّرْحِ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ ، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَخُو بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَلَمْ يُنْبِئْهُمَا بِمُصَابِ إِخْوَانِهِمَا ، إِلَّا الطَّيْرُ تَحُومُ عَلَى الْعَسْكَرِ ، فَقَالَا : وَاللَّهِ إِنَّ لِهَذَا الطَّيْرِ لَشَأْنًا ، فَأَقْبَلَا لِيَنْظُرَا فَإِذَا الْقَوْمُ فِي دِمَائِهِمْ وَإِذَا الْخَيْلُ الَّتِي أَصَابَتْهُمْ وَاقِفَةٌ ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ : مَا تَرَى ؟ قَالَ : أَرَى أَنْ نَلْحَقَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنُخْبِرَهُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : لَكِنِّي مَا كُنْتُ لِأَرْغَبَ بِنَفْسِي عَنْ مَوْطِنٍ قُتِلَ فِيهِ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو ، وَمَا كُنْتُ لِتَجْتَزِيَ عَنْهُ الرِّجَالُ ، فَقَاتَلَ الْقَوْمَ حَتَّى قُتِلَ ، وَأَخَذُوا عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ أَسِيرًا ، فَلَمَّا أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ مِنْ مُضَرَ أَطْلَقَهُ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ ، وَجَزَّ نَاصِيَتَهُ ، وَأَعْتَقَهُ عَنْ رَقَبَةٍ زَعَمَ أَنَّهَا عَلَى أُمِّهِ ، فَخَرَجَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْقَرْقَرَةِ مِنْ صَدْرِ قُبَاءَ أَتَاهُ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ، نَزَلَا فِي ظِلٍّ هُوَ فِيهِ ، وَكَانَ لِلْعَامِرِيِّينَ عَقْدٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجِوَارٌ ، فَلَمْ يَعْلَمْ بِهِ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ ، وَقَدْ سَأَلَهُمَا حِينَ نَزَلَ : مِمَّنْ أَنْتُمَا ؟ قَالَا : مِنْ بَنِي عَامِرٍ ، فَأَمْهَلَهُمَا حَتَّى نَامَا ، فَغَدَا عَلَيْهِمَا فَقَتَلَهُمَا ، وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ قَدْ أَصَابَ بِهِمَا ثَأْرَهُ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ; لِمَا أَصَابُوا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَدِمَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَهُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ قَتَلْتَ قَتِيلَيْنِ لَأُدِينَّهُمَا " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا عَمَلُ أَبِي بَرَاءٍ ، قَدْ كُنْتُ لِهَذَا كَارِهًا مُتَخَوِّفًا " ، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا بَرَاءٍ فَشَقَّ عَلَيْهِ إِخْفَارُ عَامِرٍ إِيَّاهُ ، وَمَا أُصِيبَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَبَبِهِ وَجِوَارِهِ ، فَقَالَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُحَرِّضُ ابْنَ أَبِي بَرَاءٍ عَلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ : ¤ بَنِي أُمِّ الْبَنِينَ أَلَمْ يَرُعْكُمْ وَأَنْتُمْ مِنْ ذَوَائِبِ أَهْلِ نَجْدِ تَهَكُّمُ عَامِرٍ بِأَبِي بَرَاءٍ ¤ لِيَخْفِرَهُ وَمَا خَطَأٌ كَعَمْدِ أَلَا أَبْلِغْ رَبِيعَةَ ذَا الْمَسَاعِي ¤ بِمَا أَحْدَثْتَ فِي الْحُدْثَانِ بَعَدِي أَبُوكَ أَبُو الْحُرُوبِ أَبُو بَرَاءٍ ¤ وَخَالُكَ مَاجِدٌ حَكَمُ بْنُ سَعْدِ . ¤ فَحَمَلَ رَبِيعَةُ بْنُ عَامِرٍ عَلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ فَطَعَنَهُ بِالرُّمْحِ ، فَوَقَعَ فِي فَخِذِهِ فَأَشْوَاهُ ، وَوَقَعَ عَنْ فَرَسِهِ ، فَقَالَ : هَذَا عَمَلُ أَبِي بَرَاءٍ ، فَإِنْ أَمُتْ فَدَمِي لِعَمِّي لَا يُتْبَعُ بِهِ ، وَإِنْ أَعِشْ فَسَأَرَى رَأْيِي فِيمَا أَتَى إِلَيَّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ . ¤محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے بعد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شوال کا بقیہ حصہ ، ذیقعدہ اور ذوالج کے ( پورے ) مہینے تک ٹھہرے رہے ، اس حج کے موقع کے نگران مشرکین بنے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم محرم کا مہینہ بھی ٹھہرے رہے ، پھر آپ نے صفر کے مہینے میں اپنے اصحاب کو ” بئر معونہ “ کی طرف بھجوایا ، یہ غزوہ اُحد کے بعد چوتھے مہینے کی بات ہے ، ان حضرات نے
یہ روایت جس طرح بیان کی ہے ، اسی طرح اسحاق نے مجھے بیان کی ہے ، مغیرہ بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام کے حوالے سے ، اور عبداللہ بن ابوبکر بن محمد بن عمر بن حزم کے حوالے سے ، اور دیگر اہل علم کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ” ابوبراء عامر بن مالک بن جعفر ” ملاعب الاسنہ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کی پیشکش کی ، اس نے اسلام قبول نہیں کیا ، لیکن وہ اسلام سے دور بھی نہیں تھا ، اس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اگر آپ اپنے اصحاب میں سے کسی شخص کو بھیج دیں ، جو اُن لوگوں کو آپ کے معاملے کی طرف دعوت دے ، تو یہ مناسب ہو گا مجھے یہ امید ہے کہ وہاں کے لوگ آپ کی بات مان لیں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے سیدنا منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، جنہیں ” معتق لیموت “ کہا: جاتا تھا ، ان کے ہمراہ مسلمانوں کے چالیس بہترین افراد بھیجے ، جن میں ایک سیدنا حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ ایک سیدنا حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ تھے جن کا تعلق بنو عدی بن نجار سے ہے ایک سیدنا عروہ بن اسماء بن صلت سلمی رضی اللہ عنہ تھے ایک سیدنا نافع بن بدیل بن ورقاء خزاعی رضی اللہ عنہ تھے ایک سیدنا عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ تھے جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں اور ان کے علاوہ کچھ لوگ تھے ، جو مسلمانوں کے بہترین لوگ تھے اور ان کے نام بھی ذکر کیے گئے ہیں ، یہ لوگ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ انہوں نے ” بئر معونہ “ کے پاس پڑاؤ کیا ، وہ بنو عامر کے علاقے میں موجود کنواں تھا ، اور اس کے پاس بنو سلیم کا پتھریلی زمین کا علاقہ تھا ، ان دونوں کے علاقے اس کنویں کے قریب تھے لیکن بنو سلیم کے علاقے سے یہ زیادہ قریب تھا ، جب ان لوگوں نے وہاں پڑاؤ کیا ، تو ان لوگوں نے سیدنا حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو اللہ کے رسول کے مکتوب کے ہمراہ عامر بن طفیل کے پاس بھیجا ، جب وہ ان کے پاس آئے ، تو اس نے مکتوب کی طرف دیکھا ہی نہیں ، بلکہ ان صاحب کی طرف بڑھا اور انہیں قتل کر دیا ، پھر اس نے بنو عامر کو مدد کے لئے بلایا ، تو ان لوگوں نے اس کی وہ بات ماننے سے انکار کر دیا ، جس کی طرف اس نے انہیں بلایا تھا ، انہوں نے کہا: ہم ابوبراء ( یعنی عامر بن مالک ” ملاعب الاسنہ “ ) کی دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی نہیں کریں گے ، کیونکہ اس نے ان لوگوں کے لئے عقد طے کیا تھا ، اور پناہ دی تھی ۔ پھر اُس نے ( یعنی عامر بن طفیل نے ) بنوسلیم سے تعلق رکھنے والے مختلف قبائل عصیہ ، رعل اور ذکوان کو ، اُن کے خلاف بلایا ، تو ان لوگوں نے اُس کی بات مان لی ، وہ لوگ وہاں سے نکلے اور انہوں نے مسلمانوں کو گھیر لیا اور ان کی رہائشی جگہ کے آس پاس انہیں گھیرے میں لے لیا ، جب ان حضرات نے ان لوگوں کو دیکھا تو انہوں نے اپنی تلواریں نکال لیں اور لڑائی کرتے رہے ، یہاں تک کہ ان کا آخری فرد بھی شہید ہو گیا ، صرف بنو نجار بن دینار سے تعلق رکھنے والے سیدنا کعب بن زید رضی اللہ عنہ بچ گئے ، کیونکہ ان لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا تھا ، کیونکہ ان کے اندر رمق باقی تھی اور مقتولین کے درمیان وہی شدید زخمی تھے ، وہ بعد میں زندہ رہے ، یہاں تک کہ غزوہ خندق کے موقع پر شہید ہوئے ، ان لوگوں میں سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ تھے اور انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب تھے ، جن کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے تھا ، ان کے ساتھیوں کو جو صورت حال لاحق ہوئی تھی ، اس کے بارے میں ان دونوں کو پرندے کے ذریعے چلا ، جو لشکر پر گھوم رہا تھا ، ان دونوں نے کہا: اللہ کی قسم ! اس پرندے کے حوالے سے ضرور کوئی چیز سامنے آئے گی ، پھر وہ دونوں آئے تاکہ اس بات کا جائزہ لیں ، تو لوگ خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے اور ان کے گھوڑے وہاں کھڑے ہوئے تھے ، انصاری نے عمرو بن امیہ سے کہا: تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے کہا: میرا یہ خیال ہے کہ ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر آپ کو اس بارے میں بتانا چاہیے ، انصاری نے کہا: لیکن میں اپنی جان کے حوالے سے یہ رغبت نہیں رکھتا کہ میں اس جگہ سے چلا جاؤں ، جہاں منذر بن عمرو قتل ہو چکا ہے ، انہوں نے دشمن کے ساتھ جنگ کی ، یہاں تک کہ شہید ہو گئے ، پھر انہوں نے سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کو قیدی کے طور پر پکڑ لیا ، جب انہوں نے ان لوگوں کو بتایا کہ ان کا تعلق مضر قبیلے سے ہے ، تو عامر بن طفیل نے انہیں چھوڑ دیا ، اس نے ان کی پیشانی کے بال کاٹ دیے اور انہیں اس غلام کی جگہ آزاد کر دیا ، جس کے بارے میں اس کا یہ خیال تھا اس کی ماں کے ذمہ غلام آزاد کرنا لازم تھا ، سیدنا عمر بن امیہ رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے ، یہاں تک کہ جب وہ قباء کے مقام ” قرقرہ “ میں موجود تھے ، تو بنو عامر سے تعلق رکھنے والے دو افراد آ گئے ، اُن دونوں نے اسی سائے میں پڑاؤ کیا ، جہاں وہ موجود تھے ، بنو عامر سے تعلق رکھنے والے افراد کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عہد ملا ہوا تھا ، اور پناہ ملی ہوئی تھی ۔ لیکن سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں پتہ نہیں تھا ، انہوں نے ان دونوں سے پڑاؤ کے وقت دریافت کیا : تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ ان دونوں نے بتایا : بنو عامر سے ہے ، تو سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے ان کو سونے کی مہلت دی ، جب وہ سو گئے ، تو انہوں نے ان دونوں پر حملہ کر کے ان دونوں کو قتل کر دیا ، وہ یہ سمجھ رہے تھے ، انہوں نے ان دونوں کے ساتھ ٹھیک کیا ہے ، کیونکہ یہ بنو عامر کو بدلہ دینے کے مترادف ہے ، کیونکہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو نقصان پہنچایا تھا ۔ جب سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو صورت حال کے بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے دو ایسے افراد کو قتل کیا ہے ، جن کی میں دیت ضرور دوں گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ابوبراء کا عمل ہے ، میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں اور مجھے اس بات کا اندیشہ تھا ۔ جب ابوبراء کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو اس پر یہ بات بہت گراں گزری کہ عامر ( بن طفیل ) نے اُس کی دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کی ہے اور اس کے سبب سے اور اُس کی پناہ کی وجہ سے ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو نقصان اُٹھانا پڑا ہے ، تو حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ابوبراء کے بیٹے کو عامر بن طفیل کے خلاف برانگیختہ کرتے ہوئے ، یہ اشعار کہے : ” بیٹوں کی ماں کے بیٹو ! تم اہل نجد کے نمایاں حیثیت کے افراد ہو ، کیا یہ چیز تمہیں پریشان نہیں کرتی ، کہ عامر نے ابوبراء کے سامنے تکبر کا مظاہرہ کیا ہے ، کہ اس کی دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کی ہے ، اور خطا ، عمد کی طرح نہیں ہوتی ، خبردار ! کوششیں کرنے والے ربیعہ تک یہ پیغام پہنچا دو ، کہ میرے بعد کیا حادثہ رونما ہوا ہے ، تمہارا باپ ، ابوبراء جنگوں کا باپ ہے ، اور تمہارا ماموں حکم بن سعد بزرگی والا فرد ہے “ ۔ تو ربیعہ بن عامر ( یعنی ابوبراء ” ملاعب الاسنہ “ کے بیٹے ) نے عامر بن طفیل پر حملہ کر کے اُسے نیزہ مارا ، جو اس کے زانوں پر لگنا تھا ، وہ اپنی جگہ سے ہٹ کے لگا ، اور وہ شخص اپنے گھوڑے سے گر گیا ، اُس نے کہا: یہ ابوبراء کا عمل ہے ، اگر میں مر گیا ، تو میرے خون کا حساب میرا چچا کے ذمہ ، اس بارے میں اس کے پیچھے نہیں جایا جائے گا ، اور اگر میں زندہ رہ گیا ، تو میں نے جو مناسب سمجھوں گا ، وہ فیصلہ کر لوں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن اسحاق تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔