مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ بِئْرِ مَعُونَةَ باب: غزوہ بئر معونہ کا بیان
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : جَاءَ مُلَاعِبُ الْأَسِنَّةِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَدِيَّةٍ فَعَرَضَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ ، فَأَبَى أَنْ يُسْلِمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنِّي لَا أَقْبَلُ هَدِيَّةَ مُشْرِكٍ " . ¤ قَالَ : فَابْعَثْ إِلَى أَهْلِ نَجْدٍ مَنْ شِئْتَ فَأَنَا لَهُمْ جَارٌ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِقَوْمٍ فِيهِمُ : الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ : الْمُعْتَقُ لِيَمُوتَ أَوْ أُعْتِقَ عِنْدَ الْمَوْتِ ، فَاسْتَجَاشَ عَلَيْهِمْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ بَنِي عَامِرٍ فَأَبَوْا أَنْ يُطِيعُوهُ ، وَأَبَوْا أَنْ يَخْفِرُوا مُلَاعِبَ الْأَسِنَّةِ . ¤ فَاسْتَجَاشَ عَلَيْهِمْ بَنِي سُلَيْمٍ ، فَأَطَاعُوهُ ، فَأَتْبَعَهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ ، فَأَدْرَكُوهُمْ بِبِئْرِ مَعُونَةَ فَقَتَلُوهُمْ إِلَّا عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” ملاعب الاسنہ “ تحفہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کی پیشکش کی ، تو اس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں کسی مشرک کا تحفہ قبول نہیں کرتا ہوں ، اس نے کہا: پھر آپ اہل نجد کی طرف جسے چاہیں بھیج دیں ، میں ان لوگوں کو پناہ دیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ان کی طرف بھیجا ، جن میں سے ایک سیدنا منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے ، یہ وہ صاحب ہیں ، جنہیں ” معتق لیموت “ کہا: جاتا ہے یا ” اعتق عندالموت “ کہا: جاتا ہے ، تو عامر بن طفیل نے ان حضرات کے خلاف بنو عامر کو اکٹھا کرنا چاہا ، ان لوگوں نے اس کی اطاعت کرنے سے انکار کر دیا اور اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ ” ملاعب الاسنہ “ کی دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کریں ، عامر نے ان لوگوں ( یعنی صحابہ کرام ) کے خلاف بنو سلیم کو اکٹھا ہونے کے لئے کہا: ، تو انہوں نے اس کی بات مان لی ، وہ تقریباً ایک سو تیر انداز مل کر اس کے پیچھے آ گئے ، وہ ان حضرات تک ” بئر معونہ “ کے پاس پہنچ گئے ، اور انہیں قتل کر دیا ، صرف سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ بچ گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔