مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ باب: ان لوگوں کا بیان ، جنہوں نے غزوہ احد میں جام شہادت نوش کیا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ حِينَ رَجَعَ مِنْ أُحُدٍ ، فَوَقَفَ عَلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " أَشْهَدُ أَنَّكُمْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ اللَّهِ ، فَزُورُوهُمْ وَسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَا يُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ أَحَدٌ إِلَّا رَدُّوا عَلَيْهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد سے واپسی پر ، سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو آپ اپنے اصحاب سمیت اُن کے پاس ٹھہر گئے ، اور فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زندہ ہو ( پھر آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : ) تم ان کی زیارت کرو ، ان پر سلام بھیجو ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے قیامت کے دن تک ، جو بھی شخص ان پر سلام بھیجے گا ، یہ اس کو جواب دیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن عبداللہ بن فروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔