حدیث نمبر: 10118
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : دَخَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى فَاطِمَةَ يَوْمَ أُحُدٍ ، فَقَالَ : ¤ خُذِي هَذَا السَّيْفَ غَيْرَ ذَمِيمٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَئِنْ كُنْتَ أَحْسَنْتَ الْقِتَالَ لَقَدْ أَحْسَنَهُ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ ، وَأَبُو دُجَانَةَ سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے بعد ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور بولے : یہ تلوار لے لو ! جو مذمت کے بغیر ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم نے اچھے طریقے سے لڑائی کی ہے ، تو سہل بن حنیف نے ، اور ابودجانہ سماک بن خرشہ نے بھی اچھے طریقے سے لڑائی کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10118
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6507 و 11644)»