❮
❯
حدیث نمبر: 10117
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : جَاءَ عَلِيٌّ إِلَى فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - يَوْمَ أُحُدٍ ، فَقَالَ : أَمْسِكِي سَيَفِي هَذَا فَقَدْ أَحْسَنْتُ بِهِ الضَّرْبَ الْيَوْمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ كُنْتَ أَحْسَنْتَ الْقِتَالَ ، فَقَدْ أَحْسَنَهُ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَسَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ ، وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ الْأَزْدِيُّ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ .
محمد محی الدین

سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ، یہ غزوہ احد کے بعد کی بات ہے ، انہوں نے کہا: میری یہ تلوار پکڑ لو ! میں نے اس کے ذریعے آج اچھے طریقے سے ضربیں لگائی ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم نے اچھے طریقے سے لڑائی کی ہے ، تو عاصم بن ثابت ، سہل بن حنیف اور حارث بن صمہ نے بھی اچھے طریقے سے لڑائی کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن ابوامامہ ہے ، ازدی کہتے ہیں : وہ منکر الحدیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10117
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5564) ، أخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 5793، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 5564، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6665»