مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَحْسَنَ الْقِتَالَ يَوْمَ أُحُدٍ باب: اس شخص کا بیان ، جس نے غزوہ احد کے دن ، اچھے طریقے سے جنگ کی
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : دَخَلَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَلَى فَاطِمَةَ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهَا - يَوْمَ أُحُدٍ ، فَقَالَ : ¤ أَفَاطِمُ هَاكَ السَّيْفَ غَيْرَ ذَمِيمِ فَلَسْتُ بِرِعْدِيدٍ وَلَا بِلَئِيمِ لَعَمْرِي لَقَدْ أَبْلَيْتُ فِي نَصْرِ أَحْمَدَ ¤ وَمَرْضَاةِ رَبٍّ بِالْعِبَادِ عَلِيمِ ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ كُنْتَ أَحْسَنْتَ الْقِتَالَ فَقَدْ أَحْسَنَهُ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ ، وَابْنُ الصِّمَّةِ " ، وَذَكَرَ آخَرَ فَنَسِيَهُ مُعَلَّى ، فَقَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ : يَا مُحَمَّدُ ، هَذَا وَأَبِيكَ الْمُوَاسَاةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا جِبْرِيلُ ، إِنَّهُ مِنِّي " ، فَقَالَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَأَنَا مِنْكُمَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَاسِطِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ، یہ غزوہ اُحد کے بعد کی بات ہے ، انہوں نے یہ اشعار پڑھے : ” اے فاطمہ ! یہ تلوار لو ، جو مذموم نہیں ، کیونکہ میں نہ تو بزدل ہوں ، اور نہ ہی کمتر ہوں ، میں نے سیدنا أحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنے ، اور پروردگار کی رضا مندی کے حصول کے لیے بھرپور کوشش کی ہے ، ( وہ پروردگار ) جو بندوں کے افعال کے بارے میں علم رکھتا ہے “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم نے اچھے طریقے سے لڑائی کی ہے ، تو سہل بن حنیف اور ابن صمہ نے بھی اچھے طریقے سے لڑائی کی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : روایت میں ایک اور صاحب کا ذکر کیا ہے ، جسے معلیٰ نامی راوی بھول گئے ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے سیدنا محمد ! آپ کے والد کی قسم ! یہ بھائی چارہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جبرائیل ! یہ ( یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: میں آپ دونوں سے ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معلی بن عبدالرحمن واسطی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔