مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَقْتَلِ حَمْزَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى حَمْزَةَ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ يَدْفِنُهُ ، فَلُفَّ فِي نَمِرَةٍ فَبَدَتْ قَدَمَاهُ ، حِينَ خَمَّرُوا رَأْسَهُ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْحَرْمَلِ فَجُعِلَ عَلَى قَدَمَيْهِ ، وَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ يَحْزَنَ لِذَلِكَ النِّسَاءُ ، لَتَرَكْنَا حَمْزَةَ بِالْعَرَاءِ لِعَافِيَةِ الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَدَنِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے ، آپ انہیں دفن کروانے لگے تھے ، انہیں چادر میں لپیٹا گیا ، تو ان کے پاؤں ظاہر ہو گئے ، اس وقت جب لوگوں نے ان کے سر کو ڈھانپا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرمل ( یعنی گھاس یا پتوں ) کے بارے میں حکم دیا وہ ان کے قدموں پر ڈال دی گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر خواتین کے اس حوالے سے غمگین ہونے کا اندیشہ ہوتا ، تو ہم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو پرندوں اور درندوں کے لئے یوں ہی چھوڑ دینا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن یحیی مدنی ہے اور وہ متروک ہے ۔