مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَقْتَلِ حَمْزَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان
وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعَدِيِّ قَالَ : أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَبْرِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَجَعَلُوا يَجُرُّونَ النَّمِرَةَ عَلَى وَجْهِهِ فَتَنْكَشِفُ قَدَمَاهُ ، وَيَجُرُّونَهَا عَلَى قَدَمَيْهِ فَيَنْكَشِفُ وَجْهُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْعَلُوهَا عَلَى وَجْهِهِ ، وَاجْعَلُوا عَلَى قَدَمَيْهِ مِنْ هَذَا الشَّجَرِ " ، قَالَ : فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ ، فَإِذَا أَصْحَابُهُ يَبْكُونَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَخْرُجُونَ إِلَى الْأَرْيَافِ فَيُصِيبُونَ بِهَا مَطْعَمًا وَمَسْكَنًا وَمَرْكَبًا - أَوْ قَالَ : مَرَاكِبَ - فَيَكْتُبُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ هَلُمَّ إِلَيْنَا ، فَإِنَّكُمْ بِأَرْضِ حِجَازٍ جَدْوَبَةٍ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ، لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی قبر کے پاس موجود تھا لوگ چادر ان کے چہرے پر ڈالتے تھے ، تو ان کے پاؤں ظاہر ہو جاتے تھے ، لوگ چادر کو کھینچ کر ان کے پاؤں پر ڈالتے تھے ، تو چہرہ ظاہر ہو جاتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس چادر کو ان کے چہرے پر ڈال دو اور ان کے پاؤں پر اس درخت کے ( پتے ) ڈال دو ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اٹھایا ، تو آپ کے اصحاب رو رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا : لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ جب وہ خوشحال علاقوں کی طرف چلے جائیں گے ، وہاں انہیں کھانے کے لئے رہائش کے لئے سواری کے لئے چیزیں ملیں گی ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں ، راوی کو شک ہے ) وہ اپنے اہل خانہ کو خط لکھیں گے ، تم بھی ہماری طرف آ جاؤ ! کیونکہ حجاز کی سرزمین تو خشک سالی والی ہے ، حالانکہ مدینہ ان کے لئے زیادہ بہتر ہے ، اگر انہیں علم ہو ، یہاں کی سختی اور شدت پر جو شخص صبر کرے گا ، میں قیامت کے دن اس کا شفاعت کرنے والا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کا گواہ ہوؤں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔