حدیث نمبر: 10107
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى حَمْزَةَ نَظَرَ إِلَى مَا بِهِ ، فَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ يَحْزَنَ نِسَاؤُنَا مَا غَيَّبْتُهُ ، وَلَتَرَكْتُهُ حَتَّى يَكُونَ فِي بُطُونِ السِّبَاعِ وَحَوَاصِلِ الطَّيْرِ ، يَبْعَثُهُ اللَّهُ مِمَّا هُنَالِكَ " ، قَالَ : وَأَحْزَنَهُ مَا رَأَى بِهِ ، فَقَالَ : " لَئِنْ ظَفِرْتُ بِهِمْ لَأُمَثِّلَنَّ بِثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْهُمْ " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي ذَلِكَ : ( وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ ) إِلَى قَوْلِهِ : ( يَمْكُرُونَ ) ¤ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَهُيِّئَ إِلَى الْقِبْلَةِ ، ثُمَّ كَبَّرَ عَلَيْهِ تِسْعًا ، ثُمَّ جَمَعَ إِلَيْهِ الشُّهَدَاءَ ، كُلَّمَا أُتِيَ بِشَهِيدٍ وُضِعَ إِلَى جَنْبِهِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَعَلَى الشُّهَدَاءِ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ صَلَاةً ، ثُمَّ قَامَ عَلَى أَصْحَابِهِ حَتَّى وَارَوْهُمْ ، وَلَمَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ عَفَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَجَاوَزَ وَتَرَكَ الْمِثْلَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ رَاشِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرے اور آپ نے ان کی صورت حال ملاحظہ فرمائی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اگر ہماری خواتین کے غمگین ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا ، تو میں نے انہیں دفن نہیں کرنا تھا ، میں نے انہیں یوں ہی چھوڑ دینا تھا ، یہاں تک کہ انہوں نے درندوں کے پیٹوں میں اور پرندوں کے پیٹوں میں چلے جانا تھا ، اور وہاں سے اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندہ کرنا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو صورت حال ملاحظہ فرمائی تھی ، اس نے آپ کو نمگین کر دیا ، آپ نے ارشاد فرمایا : اگر میں نے ان لوگوں کے خلاف کامیابی حاصل کر لی ، تو میں اُن کے تیس افراد کا مثلہ کروں گا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی ہے : ” اور اگر تم سزا دیتے ہو تو اتنی ہی دو ، جتنی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ، اور اگر تم صبر کرو تو وہ ( یعنی صبر کرنا ) صبر کرنے والوں کے لیے زیادہ بہتر ہے “ یہ آیت یہاں تک ہے : ” یمکرون “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا ، انہیں قبلہ کی سمت میں رکھا گیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر نو مرتبہ تکبیر کہی پھر دیگر شہداء کو لا کر اُن کے ساتھ رکھا جاتا تھا ، جب بھی کسی شہید کو لایا جاتا تھا ، تو اسے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں رکھا جاتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی دیگر شہداء سمیت بہتر مرتبہ نماز جنازہ ادا کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور آپ نے ان سب حضرات کو دفن کروایا ، ( راوی بیان کرتے ہیں : ( جب قرآن کا حکم نازل ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درگزر سے کام لیا اور مثلہ کرنے کے فیصلے کو ترک کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن ایوب بن راشد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10107
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11051)»