مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَقْتَلِ حَمْزَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَفَ عَلَى حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ حِينَ اسْتُشْهِدَ فَنَظَرَ إِلَى مَنْظَرٍ لَمْ يَنْظُرْ إِلَى مَنْظَرٍ أَوْجَعَ لِلْقَلْبِ مِنْهُ ، أَوْ أَوْجَعَ لِقَلْبِهِ مِنْهُ ، وَنَظَرَ إِلَيْهِ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ ، فَقَالَ : " رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ إِنْ كُنْتَ مَا عَلِمْتُ لَوَصُولًا لِلرَّحِمِ ، فَعُولًا لِلْخَيْرَاتِ ، وَاللَّهِ لَوْلَا حُزْنٌ مِنْ بَعْدِكَ عَلَيْكَ ، لَسَرَّنِي أَنْ أَتْرُكَكَ حَتَّى يَحْشُرَكَ اللَّهُ مِنْ بُطُونِ السِّبَاعِ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - أَمَا وَاللَّهِ ، عَلَى ذَلِكَ لَأُمَثِّلَنَّ بِسَبْعِينَ كَمِثْلَتِكَ " ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَذِهِ السُّورَةِ ، وَقَرَأَ : ( وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ ) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، فَكَفَّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمْسَكَ عَنْ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ بَشِيرٍ الْمُرِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی لاش کے پاس آ کر ٹھہرے ، آپ نے جب یہ منظر ملاحظہ کیا ، تو آپ نے کوئی ایسا منظر نہیں دیکھا تھا جو آپ کے دل کے لئے اس سے زیادہ تکلیف دہ ہو ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا کہ ان کی بے حرمتی کی گئی ہے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی آپ پر رحمت ہو ! میرے علم کے مطابق آپ سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے تھے ، بھلائی کے کام کرنے والے تھے ، اللہ کی قسم ! اگر مجھے آپ کے بعد لوگوں کے آپ کے حوالے سے غم کا اندیشہ نہ ہوتا ، تو مجھے یہ پسند تھا کہ میں آپ کو یوں ہی چھوڑ دیتا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ درندوں کے پیٹوں میں سے ، آپ کو حشر کے دن اُٹھاتا ( راوی کو شک ہے ، یا شاید اس کی مانند کوئی کلمہ آپ نے ارشاد فرمایا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اللہ کی قسم ! اس کے بدلے میں ، میں ستر افراد کا مثلہ کروں گا ، جو آپ کے مثلہ کی مانند ہو گا ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ سورت لے کر نازل ہوئے ، انہوں نے یہ آیت پڑھی : ” اور اگر تم سزا دیتے ہو تو اتنی ہی دو ، جتنی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پھر اپنی قسم کا ) کفارہ دیا اور اس سے رک گئے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن بشیر مری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔