حدیث نمبر: 10103
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ رَأَى مَقْتَلَ حَمْزَةَ ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ : أَعَزَّكَ اللَّهُ ، أَنَا رَأَيْتُ مَقْتَلَهُ ، فَانْطَلَقَ فَوَقَفَ عَلَى حَمْزَةَ فَرَآهُ قَدْ شُقَّ بَطْنُهُ ، وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ مُثِّلَ بِهِ ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهِ وَوَقَفَ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ الْقَتْلَى ، وَقَالَ : " أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ لُفُّوهُمْ بِدِمَائِهِمْ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مَجْرُوحٌ يُجْرَحُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا جَاءَ جُرْحُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُدْمِي لَوْنُهُ لَوْنُ الدَّمِ ، وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ ، قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا ، وَاجْعَلُوهُ فِي اللَّحْدِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کس نے حمزہ کی شہادت کی جگہ دیکھی ہے ؟ ایک صاحب نے عرض کی : اللہ تعالیٰ آپ کو عزت عطا کرے ! میں نے ان کی شہادت کی جگہ دیکھی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، آپ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی ( میت ) کے پاس آ کر ٹھہر گئے ، جب آپ نے انہیں ملاحظہ فرمایا ، کہ ان کا پیٹ چیر دیا گیا تھا ، اور ان کے جسم کی بے حرمتی کی گئی تھی ، تو اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان کی بے حرمتی کی گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی طرف دیکھنے کو ناپسند کیا ، آپ مقتولین کے درمیان کھڑے ہوئے ، اور آپ نے ارشاد فرمایا : میں ان لوگوں کا گواہ ہوں ، تم انہیں ان کے خون میں ( یعنی خون آلود کپڑوں میں ) لپیٹ دو ! کیونکہ جس بھی زخمی کو ، اللہ کی راہ میں جو زخم لگتا ہے ، وہ شخص جب قیامت کے دن آئے گا ، تو اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہو گا ، جس کا رنگ خون کے رنگ جیسا ہو گا ، اور اس کی خوشبو ، مشک کی خوشبو جیسی ہو گی اور جس شخص کو زیادہ قرآن آتا ہو اسے ( قبلہ کی سمت میں ) آگے رکھنا اور ان کے لئے لحد تیار کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10103
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (82/19)»