مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنِ اسْتُصْغِرَ يَوْمَ أُحُدٍ باب: غزوہ احد کے موقع پر کن لوگوں کو کمسن قرار دیا گیا تھا
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمَ أُحُدٍ ، فَأَرَادَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَدَّهُ وَاسْتَصْغَرَهُ ، فَقَالَ لَهُ عَمِّي : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ رَامٍ فَأَخْرِجْهُ ، فَأَصَابَهُ سَهْمٌ فِي صَدْرِهِ أَوْ نَحْرِهِ فَأَتَى عَمُّهُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ ابْنَ أَخِي أُصِيبَ بِسَهْمٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ تَدَعْهُ فِيهِ فَيَمُوتُ مَاتَ شَهِيدًا " . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُسَيْنٍ : وَحَدَّثَتْنِي امْرَأَتُهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَرَاهُ يَغْتَسِلُ فَيَتَحَرَّكُ فِي صَدْرِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَلَهُ طَرِيقٌ أَتَمُّ مِنْ هَذِهِ فِي مَنَاقِبِهِ . ¤سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ غزوہ اُحد کے موقع پر نکلے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس کرنے کا ارادہ کیا اور انہیں کمسن قرار دیا ، راوی کہتے ہیں : تو میرے چچا نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ تیر انداز ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جانے کی اجازت دیدی ، تو ان کے سینے میں یا گردن پر ایک تیر لگا ، اُن کے چچا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی : میرے بھتیجے کو تیر لگا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم اُسے ایسی حالت میں چھوڑ دو اور یہ مر جائے ، تو یہ شہید ہونے کے طور پر مرے گا ۔ عبداللہ بن حسین نامی راوی بیان کرتے ہیں : ان کی اہلیہ نے مجھے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ خاتون اس تیر کو دیکھا کرتی تھیں کہ جب وہ صاحب غسل کر رہے ہوتے تھے ، تو ان کے سینے میں وہ تیر حرکت کرتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کا ایک اور طریق بھی ہے ، جو اس سے زیادہ مکمل ہے اور وہ اس صحابی کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گا ۔