حدیث نمبر: 10061
وَعَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ قَالَ : اسْتَصْغَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَوْمَ أُحُدٍ ، فَقَالَ لَهُ عَمُّهُ أُسَيْدُ بْنُ ظُهَيْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجُلٌ رَامٍ ، فَأَجَازَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَصَابَهُ سَهْمٌ فِي لَبَّتِهِ ، فَجَاءَ بِهِ عَمُّهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ ابْنَ أَخِي أَصَابَهُ سَهْمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تُخْرِجَهُ أَخْرَجْنَاهُ ، وَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَدَعَهُ فَإِنَّهُ إِنْ مَاتَ وَهُوَ فِيهِ مَاتَ شَهِيدًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا اُسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو کمسن قرار دیا ، تو ان کے چچا سیدنا اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ شخص تیر انداز ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ، ایک تیر ان کے گلے پر لگا ان کے چچا انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی : میرے بھتیجے کو تیر لگ گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم یہ پسند کرو کہ اس کو نکلوا دو ، تو ہم اسے نکال دیتے ہیں اور اگر تم پسند کرو تو اسے ایسے ہی رہنے دو ، کیونکہ ایسی صورت میں یہ جب بھی مرے گا ، اور اُس وقت یہ تیر اس کے اندر ہو گا ، تو یہ شہید ہونے کے طور پر مرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10061
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (569)»