حدیث نمبر: 10059
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رَأَيْتُ كَأَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا ، وَكَأَنَّ ضَبَّةَ سَيْفِيَ انْكَسَرَتْ ، فَأَوَّلْتُ أَنِّي أَقْتُلُ كَبْشَ الْقَوْمِ ، وَأَوَّلْتُ ضَبَّةَ سَيْفِي قَتْلَ رَجُلٍ مِنْ عِتْرَتِي " . فَقُتِلَ حَمْزَةُ ، وَقَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلْحَةَ ، وَكَانَ صَاحِبَ اللِّوَاءِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَالْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ وَلَمْ يُكْمِلْهُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَقَدْ جَاءَ مِنْ غَيْرِ طَرِيقِهِ كَمَا تَرَاهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میں نے ایک دنبے کو اپنے پیچھے بیٹھایا ہوا ہے اور جیسے میری تلوار کی دھار ٹوٹ گئی ہے ، تو میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ میں دشمن کے ایک اہم فرد کو قتل کروں گا ، اور اپنی تلوار کی دھار کی میں نے یہ تعبیر کی ہے کہ میرے خاندان کا ایک فرد قتل ہو جاے گا ، تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلحہ نامی شخص کو قتل کیا تھا ، جو اُن کا علم بردار تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اسے امام بزار اور امام أحمد نے بھی نقل کیا ہے ، لیکن انہوں نے اسے مکمل نقل نہیں کیا ، اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، یہ ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے ، جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10059
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2131) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2950) اخرجه أحمد فى المسند (267/3)»