حدیث نمبر: 10058
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ أَبُو سُفْيَانَ وَأَصْحَابُهُ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ سَيْفِيَ ذَا الْفَقَارِ انْكَسَرَ ، وَهِيَ مُصِيبَةٌ ، وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ ، وَهِيَ مُصِيبَةٌ ، وَرَأَيْتُ عَلَيَّ دِرْعِي وَهِيَ مَدِينَتُكُمْ ، لَا يَصِلُونَ إِلَيْهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . قُلْتُ : وَلَهُ طَرِيقٌ فِي التَّعْبِيرِ رَوَاهَا الْبَزَّارُ أَبَيْنُ مِنْ هَذِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اُحد کے دن پڑاؤ کیا ، تو دوسری طرف ابوسفیان اور اس کے ساتھی تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میری تلوار ذوالفقار ٹوٹ گئی ہے اور یہ کسی مصیبت کی نشان دہی ہے اور میں نے ایک گائے کو دیکھا کہ اُسے ذبح کیا گیا ہے ، تو یہ بھی کسی مصیبت کی نشانی ہے اور میں نے یہ دیکھا کہ میرے جسم پر زرہ ہے ، تو اس سے مراد یہ مدینہ ہے ، اگر اللہ نے چاہا ، تو وہ لوگ یہاں تک نہیں پہنچ پائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کا ایک طریق تعبیر سے متعلق باب میں آئے گا ، جسے امام بزار نے روایت کیا ہے ، اور وہ اس سے زیادہ واضح ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10058
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12104)»