حدیث نمبر: 10057
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ; أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ ، وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُنْحَرُ ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ الدِّرْعَ الْحَصِينَةَ الْمَدِينَةُ ، وَأَنَّ الْبَقَرَ نَفَرٌ ، وَاللَّهُ خَيْرٌ " ، قَالَ : فَقَالَ أَصْحَابُهُ : " لَوْ أَنَّا أَقَمْنَا بِالْمَدِينَةِ ، فَإِنْ دَخَلُوا عَلَيْنَا فِيهَا قَاتَلْنَاهُمْ " ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا دُخِلَ عَلَيْنَا فِيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَكَيْفَ يُدْخَلُ عَلَيْنَا فِيهَا فِي الْإِسْلَامِ ؟ ! فَقَالَ : " شَأْنُكُمْ إِذًا " ، فَلَبِسَ لَأْمَتَهُ قَالَ : فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : رَدَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْيَهُ ، فَجَاءُوا فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، شَأْنُكَ إِذًا ، فَقَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ إِذَا لَبِسَ لَأْمَتَهُ أَنْ يَضَعَهَا حَتَّى يُقَاتِلَ " ، رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : میں نے خواب دیکھا کہ میں نے ایک مضبوط زرہ پہنی ہوئی ہے اور میں نے ایک گائے کو دیکھا کہ اسے قربان کیا گیا ہے ، تو میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ مضبوط زرہ سے مراد مدینہ منورہ ہے اور گائے سے مراد کچھ افراد ہیں ، باقی اللہ بہتری کرنے والا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : اگر ہم مدینہ میں مقیم رہیں اور وہ لوگ مدینہ میں ہم پر داخل ہو گئے ، تو ہم ان سے لڑائی کر لیں گے ، لوگوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! وہ زمانہ جاہلیت میں کبھی ہم پر ہمارے شہر میں داخل نہیں ہو سکے ، تو وہ اسلام میں کیسے ہمارے پاس آ سکتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم جیسا چاہو کرو ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار پہن لئے انصار نے ( ایک دوسرے سے ) کہا: ہم نے اللہ کے رسول کی رائے کو قبول نہیں کیا ؟ پھر وہ آئے اور انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ جیسے مناسب سمجھیں کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ جب وہ ہتھیار پہنچ چکا ہو ، تو پھر وہ لڑائی سے پہلے انہیں اُتار دے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10057
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (351/3)»