حدیث نمبر: 10049
وَعَنْ أُنَيْسَةَ بِنْتِ عَدِيٍّ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةُ - وَكَانَ بَدْرِيًّا - قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ أَحْبَبْتُ أَنْ أَنْقُلَهُ فَآنَسُ بِقُرْبِهِ ، فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَدَلَتْهُ بِالْمُجَذَّرِ بْنِ زِيَادٍ عَلَى نَاضِحٍ لَهُ فِي عَبَاءَةٍ ، فَمَرَّ بِهِمَا فَعَجِبَ لَهُمَا النَّاسُ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " سَوِّي بَيْنَهُمَا عَمَلَهُمَا " وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ ثَقِيلًا جَسِيمًا ، وَكَانَ الْمُجَذَّرُ قَلِيلَ اللَّحْمِ ، وَهُوَ الَّذِي يَقُولُ : ¤ أَنَا الَّذِي يُقَالُ أَصْلِي مِنْ بَلِي أَطْعَنُ بِالصَّعْدَةِ حَتَّى تَنْثَنِي وَلَا يَرَى مُجَذَّرًا يَفْرِي فَرِي ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ انیسہ بنت عدی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے بیٹے عبداللہ بن سلمہ کو غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، وہ غزوہ اُحد میں شہید ہو گیا ہے ، میری یہ خواہش ہے کہ میں اس کی میت کو منتقل کروں اور اس کے قرب سے انسیت حاصل کروں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو ایسا کرنے کی اجازت دے دی ، تو مجزر بن زیاد کے ساتھ مل کر اس خاتون نے ان صاحب کی میت کو ایک اونٹنی پر رکھا ، اسے ایک عباء میں رکھا تھا ۔ جب وہ ان دونوں کو لے کر گزرے ، تو لوگوں کو یہ اچھا لگا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : ان دونوں کا عمل ، ان دونوں کے درمیان برابر ہو گیا ہے ۔ عبداللہ نامی صاحب بھاری بھر کم ، اونچے لیے جسم کے مالک تھے ، جب کہ مجزر نامی صاحب کمزور تھے اور وہ یہ کہہ رہے تھے : ” میں وہ شخص ہوں جس کے بارے میں یہ کہا: جاتا ہے : میرا تعلق ” بلی “ سے ہے ، میں دشوار جگہ پر نیزہ مار کر اس کو جدا کر دیتا ہوں ، اور یہ بات نہیں دیکھی گئی کہ مجذر نے جھوٹا الزام عائد کیا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10049
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (192/24)»