مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
قَدْ حَضَرَ بَدْرًا جَمَاعَةٌ باب: غزوہ بدر کون سے مہینے میں پیش آیا تھا ؟ اور اس میں شریک ہونے والوں کی تعداد کتنی ہے ؟
وَعَنْ أُنَيْسَةَ بِنْتِ عَدِيٍّ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةُ - وَكَانَ بَدْرِيًّا - قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ أَحْبَبْتُ أَنْ أَنْقُلَهُ فَآنَسُ بِقُرْبِهِ ، فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَدَلَتْهُ بِالْمُجَذَّرِ بْنِ زِيَادٍ عَلَى نَاضِحٍ لَهُ فِي عَبَاءَةٍ ، فَمَرَّ بِهِمَا فَعَجِبَ لَهُمَا النَّاسُ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " سَوِّي بَيْنَهُمَا عَمَلَهُمَا " وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ ثَقِيلًا جَسِيمًا ، وَكَانَ الْمُجَذَّرُ قَلِيلَ اللَّحْمِ ، وَهُوَ الَّذِي يَقُولُ :
أَنَا الَّذِي يُقَالُ أَصْلِي مِنْ بَلِي أَطْعَنُ بِالصَّعْدَةِ حَتَّى تَنْثَنِي وَلَا يَرَى مُجَذَّرًا يَفْرِي فَرِي
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
سیدہ انیسہ بنت عدی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے بیٹے عبداللہ بن سلمہ کو غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، وہ غزوہ اُحد میں شہید ہو گیا ہے ، میری یہ خواہش ہے کہ میں اس کی میت کو منتقل کروں اور اس کے قرب سے انسیت حاصل کروں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو ایسا کرنے کی اجازت دے دی ، تو اس خاتون نے ان صاحب کی میت کو مجذر بن زیاد ( کی میت ) کے ساتھ برابر کر کے ان کے پانی ڈھونے والے ایک اونٹ پر رکھا ، اسے ایک عباء میں رکھا تھا ۔ جب وہ ان دونوں کو لے کر گزریں ، تو لوگوں کو ان دونوں پر تعجب ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : ان دونوں کا عمل ، ان دونوں کے درمیان برابر ہو گیا ہے ۔ عبداللہ نامی صاحب بھاری بھر کم ، اونچے لیے جسم کے مالک تھے ، جب کہ مجذر نامی صاحب کمزور تھے اور وہ یہ کہا کرتے تھے : ” میں وہ شخص ہوں جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے : میرا تعلق ” بلی “ سے ہے ، میں نیزے سے وار کرتا ہوں یہاں تک کہ وہ مڑ جاتا ہے ، اور مجذر جیسا کارنامے انجام دینے والا کوئی نہیں دیکھا گیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔