مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
قَدْ حَضَرَ بَدْرًا جَمَاعَةٌ باب: غزوہ بدر کون سے مہینے میں پیش آیا تھا ؟ اور اس میں شریک ہونے والوں کی تعداد کتنی ہے ؟
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ ، قُلْتُ : وَهُوَ ثِقَةٌ ، قَالَ : وَشَهِدَ بَدْرًا أَبُوهَا - يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - وَعَمُّهَا زَيْدٌ وَأَخْوَالُهَا : عُثْمَانُ وَقَدَامَةُ وَعَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَظْعُونٍ - وَابْنُ خَالِهَا السَّائِبُ بْنُ عُثْمَانَ . ¤امام طبرانی نے ، سیدہ حفصہ بنت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا کے حالات میں ، علی بن عبدالعزیز بغوی کے حوالے سے روایت نقل کی ہے ، جو ثقہ ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : زبیر بن بکار نے ہمیں حدیث بیان کی ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ ثقہ ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ان کے والد ( یعنی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے والد ) اُن کی مراد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں ، اور ان کے چچا سیدنا زید رضی اللہ عنہ اور ان کے ماموں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مظعون رضی اللہ عنہ اور ان کے خالہ زاد بھائی سیدنا سائب بن عثمان رضی اللہ عنہ ( ان سب حضرات کو ) غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ۔