مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
قَدْ حَضَرَ بَدْرًا جَمَاعَةٌ باب: غزوہ بدر کون سے مہینے میں پیش آیا تھا ؟ اور اس میں شریک ہونے والوں کی تعداد کتنی ہے ؟
حدیث نمبر: 10045
وَعَنِ الْوَاقِدِيِّ قَالَ : وَفِيهَا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيُّ مِنْ بَنِي مَازِنِ بْنِ النَّجَّارِ ، وَكَانَ عَلَى خُمُسِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ ، وَصَلَّى عَلَيْهِ عُثْمَانُ بِالْمَدِينَةِ ؛ يَعْنِي سَنَةَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى الْوَاقِدِيِّ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
واقدی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : اس ( سن ہجری ) میں سیدنا عبداللہ بن کعب بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا ، جن کا تعلق بنو مازن بن نجار سے تھا ، غزوہ بدر کے دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خمس کے نگران تھے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی تینتیس ہجری میں اُن کی وفات ہوئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور واقدی تک ان کے رجال ثقہ ہیں ۔