مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ قُتِلَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدْرٍ باب: غزوہ بدر کے موقع مشرکین میں سے قتل ہونے والے افراد کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : وَقَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَتْلَى بَدْرٍ ، وَقَالَ : " جَزَاكُمُ اللَّهُ عَنِّي مِنْ عِصَابَةٍ شَرًّا ، قَدْ خُنْتُمُونِي أَمِينًا ، وَكَذَّبْتُمُونِي صَادِقًا " . ¤ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا كَانَ أَعْتَى عَلَى اللَّهِ مِنْ فِرْعَوْنَ ، إِنَّ فِرْعَوْنَ لَمَّا أَيْقَنَ الْهَلَاكَ وَحَّدَ اللَّهَ ، وَإِنَّ هَذَا لَمَّا أَيْقَنَ بِالْمَوْتِ دَعَا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نَصْرُ بْنُ حَمَّادٍ الْوَرَّاقُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے مقتولین کے پاس ٹھہرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری طرف سے تمہیں برا بدلہ دیا ہے ، میرے امین ہونے کے باوجود ، تم نے میرے ساتھ خیانت کی اور میرے سچے ہونے کے باوجود ، تم نے مجھے جھٹلایا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوجہل بن ہشام ( کی لاش کی طرف ) متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ” یہ شخص ، اللہ تعالیٰ کے بارے میں ، فرعون سے بھی زیادہ ، سرکش تھا ، فرعون کو جب ہلاکت کا یقین ہو گیا ، تو اس نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعتراف کر لیا تھا ، لیکن جب اسے موت کا یقین ہوا ، تو اس نے لات اور عزی کو پکارا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نصر بن حماد دوراق ہے اور وہ متروک ہے ۔