مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ قُتِلَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدْرٍ باب: غزوہ بدر کے موقع مشرکین میں سے قتل ہونے والے افراد کا بیان
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِبِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ فَأُلْقُوا فِي طُوًى مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ خَبِيثٍ مُخْبِثٍ . ¤ قَالَ : وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ . قَالَ : فَلَمَّا ظَهَرَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ أَقَامَ ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّى إِذَا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَشَدَّتْ بِرَحْلِهَا ، ثُمَّ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ . ¤ قَالَ : فَمَا نَرَاهُ يَنْطَلِقُ إِلَّا لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ . قَالَ : حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةِ الطُّوَى قَالَ : فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ : " يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانِ ، أَسَرَّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ؟ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ " . قَالَ عُمَرُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا تُكَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ فِيهَا ؟ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ " . ¤ قَالَ قَتَادَةُ : أَحْيَاهُمُ اللَّهُ لَهُ حَتَّى سَمِعُوا كَلَامَهُ تَوْبِيخًا وَتَصْغِيرًا وَتَقْمِئَةً . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے اکابرین میں سے بیس سے زیادہ افراد کے بارے میں حکم دیا ، تو انہیں بدر کے گڑھوں میں سے ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا ، جو خبیث اور برا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر غلبہ پا لیتے تھے ، تو آپ اس علاقے میں تین دن ٹھہرے رہتے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بدر پر غلبہ پا لیا ، تو آپ تین دن وہاں ٹھہرے رہے ، یہاں تک کہ تیسرے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری کے بارے میں حکم دیا ، آپ کے پالان کو باندھ دیا گیا ، پھر آپ روانہ ہوئے ، آپ کے اصحاب بھی آپ کے پیچھے چل پڑے ۔ راوی کہتے ہیں : ہمارا یہ خیال تھا کہ آپ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جانے لگے ہوں گے ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں کے کنارے کے پاس آ کر کھڑے ہوئے آپ نے اُن لوگوں کو ، ان کا نام لے کر اور ان کے باپوں کا نام لے کر پکارا اور فرمایا : اے فلاں بن فلاں ! کیا اب تمہاری یہ خواہش ہے کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی ؟ تمہارے پروردگار نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا ، کیا تم نے اسے حق پا لیا ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کی عرض کی اے اللہ کے نبی ! آپ ایسے جسموں کے ساتھ کیوں کلام کر رہے ہیں ، جن میں روح ہی موجود نہیں ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے ، میں جو کہہ رہا ہوں ، تم لوگ اس کو ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو “ ۔ قتادہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے انہیں زندگی عطا کی تھی ، یہاں تک کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو سن لیا ، یہ تو بیخ کے طور پر ان کو کمتر ظاہر کرنے کے لئے اور ان کی رسوائی کے لئے تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔