کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: غزوہ بدر کے موقع مشرکین میں سے قتل ہونے والے افراد کا بیان
حدیث نمبر: 10023
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَمَّا مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ بِأُولَئِكَ الرَّهْطِ فَأُلْقُوا فِي الطُّوَى عُتْبَةُ وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابُهُ ، وَقَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ : " جَزَى اللَّهُ شَرًّا مِنْ قَوْمِ نَبِيٍّ مَا كَانَ أَسْوَأَ الطَّرْدِ ، وَأَشَدَّ التَّكْذِيبِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تُكَلِّمُ قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا ؟ فَقَالَ : " مَا أَنْتُمْ بِأَفْهَمَ لِقَوْلِي مِنْهُمْ ، أَوْ لَهُمْ أَفْهَمُ لِقَوْلِي مِنْكُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ ، وَلَكِنَّهُ دَخَلَ عَلَيْهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کی لاشوں کے پاس سے گزرے جنہیں کنویں میں ڈال دیا گیا ، یعنی عتبہ ، ابوجہل اور اس کے ساتھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ٹھہر گئے ، اور آپ نے ارشاد فرمایا : نبی کی قوم کو ، اللہ تعالیٰ نے برا بدلہ دیا ہے ، یہ لوگ کتنے برے طریقے سے پرے کرنے والے تھے اور کتنی شدت کے ساتھ جھٹلانے والے تھے ، صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ایسی قوم کے ساتھ کیسے کلام کر رہے ہیں ، جو مردار ہو چکے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری بات تم ان سے زیادہ نہیں سمجھ رہے ہو ، ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ لوگ میری بات کو تم سے زیادہ سمجھ رہے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابراہیم نامی راوی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے تا ہم وہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابراہیم نامی راوی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے تا ہم وہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا ہے ۔
حدیث نمبر: 10024
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْقَتْلَى أَنْ يُطْرَحُوا فِي الْقَلِيبِ ، وَطُرِحُوا فِيهِ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ ، فَإِنَّهُ انْتَفَخَ فِي دِرْعِهِ فَمَلَأَهَا ، فَذَهَبُوا لِيُحَرِّكُوهُ فَتَزَايَلَ فَتَرَكُوهُ ، وَأَلْقَوْا عَلَيْهِ مَا غَيَّبَهُ مِنَ التُّرَابِ وَالْحِجَارَةِ ، فَلَمَّا أَلْقَاهُمْ فِي الْقَلِيبِ وَقَفَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا أَهْلَ الْقَلِيبِ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ، فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا ؟ " . قَالَ : فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُكَلِّمُ قَوْمًا مَوْتَى ؟ فَذَكَرَ نَحْوَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مشرکین سے تعلق رکھنے والے ) مقتولین کے بارے میں حکم دیا کہ انہیں گڑھے میں ڈال دیا جائے ، انہیں گڑھے میں ڈال دیا گیا ، صرف امیہ بن خلف کے ساتھ ایسا نہیں ہو سکا ، کیونکہ وہ اپنی زرہ میں پھول گیا تھا ، اور وہ زرہ اس میں پھنس گئی تھی ، لوگوں نے اسے حرکت دینا چاہی تو اس کا جسم ٹوٹ گیا ، تو لوگوں نے اسے وہیں چھوڑ دیا اور اس پر مٹی اور پتھر وغیرہ ڈال دیے ، جب ان لوگوں نے اُن مقتولین کو گڑھے میں ڈال دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی لاشوں کے پاس ٹھہرے اور ارشاد فرمایا : ” اے گڑھے والو ! تمہارے پروردگار نے جو وعدہ کیا تھا ، کیا تم نے اسے سچا پا لیا ہے ؟ میں نے تو اس چیز کو سچا پا لیا ہے ، جو میرے پروردگار نے مجھ سے وعدہ کیا تھا ، آپ کے اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ مرے ہوئے لوگوں کے ساتھ کلام کر رہے ہیں ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10025
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِبِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ فَأُلْقُوا فِي طُوًى مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ خَبِيثٍ مُخْبِثٍ . ¤ قَالَ : وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ . قَالَ : فَلَمَّا ظَهَرَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ أَقَامَ ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّى إِذَا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَشَدَّتْ بِرَحْلِهَا ، ثُمَّ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ . ¤ قَالَ : فَمَا نَرَاهُ يَنْطَلِقُ إِلَّا لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ . قَالَ : حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةِ الطُّوَى قَالَ : فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ : " يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانِ ، أَسَرَّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ؟ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ " . قَالَ عُمَرُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا تُكَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ فِيهَا ؟ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ " . ¤ قَالَ قَتَادَةُ : أَحْيَاهُمُ اللَّهُ لَهُ حَتَّى سَمِعُوا كَلَامَهُ تَوْبِيخًا وَتَصْغِيرًا وَتَقْمِئَةً . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے اکابرین میں سے بیس سے زیادہ افراد کے بارے میں حکم دیا ، تو انہیں بدر کے گڑھوں میں سے ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا ، جو خبیث اور برا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر غلبہ پا لیتے تھے ، تو آپ اس علاقے میں تین دن ٹھہرے رہتے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بدر پر غلبہ پا لیا ، تو آپ تین دن وہاں ٹھہرے رہے ، یہاں تک کہ تیسرے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری کے بارے میں حکم دیا ، آپ کے پالان کو باندھ دیا گیا ، پھر آپ روانہ ہوئے ، آپ کے اصحاب بھی آپ کے پیچھے چل پڑے ۔ راوی کہتے ہیں : ہمارا یہ خیال تھا کہ آپ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جانے لگے ہوں گے ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں کے کنارے کے پاس آ کر کھڑے ہوئے آپ نے اُن لوگوں کو ، ان کا نام لے کر اور ان کے باپوں کا نام لے کر پکارا اور فرمایا : اے فلاں بن فلاں ! کیا اب تمہاری یہ خواہش ہے کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی ؟ تمہارے پروردگار نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا ، کیا تم نے اسے حق پا لیا ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کی عرض کی اے اللہ کے نبی ! آپ ایسے جسموں کے ساتھ کیوں کلام کر رہے ہیں ، جن میں روح ہی موجود نہیں ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے ، میں جو کہہ رہا ہوں ، تم لوگ اس کو ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو “ ۔ قتادہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے انہیں زندگی عطا کی تھی ، یہاں تک کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو سن لیا ، یہ تو بیخ کے طور پر ان کو کمتر ظاہر کرنے کے لئے اور ان کی رسوائی کے لئے تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10026
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : وَقَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَتْلَى بَدْرٍ ، وَقَالَ : " جَزَاكُمُ اللَّهُ عَنِّي مِنْ عِصَابَةٍ شَرًّا ، قَدْ خُنْتُمُونِي أَمِينًا ، وَكَذَّبْتُمُونِي صَادِقًا " . ¤ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا كَانَ أَعْتَى عَلَى اللَّهِ مِنْ فِرْعَوْنَ ، إِنَّ فِرْعَوْنَ لَمَّا أَيْقَنَ الْهَلَاكَ وَحَّدَ اللَّهَ ، وَإِنَّ هَذَا لَمَّا أَيْقَنَ بِالْمَوْتِ دَعَا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نَصْرُ بْنُ حَمَّادٍ الْوَرَّاقُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے مقتولین کے پاس ٹھہرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری طرف سے تمہیں برا بدلہ دیا ہے ، میرے امین ہونے کے باوجود ، تم نے میرے ساتھ خیانت کی اور میرے سچے ہونے کے باوجود ، تم نے مجھے جھٹلایا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوجہل بن ہشام ( کی لاش کی طرف ) متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ” یہ شخص ، اللہ تعالیٰ کے بارے میں ، فرعون سے بھی زیادہ ، سرکش تھا ، فرعون کو جب ہلاکت کا یقین ہو گیا ، تو اس نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعتراف کر لیا تھا ، لیکن جب اسے موت کا یقین ہوا ، تو اس نے لات اور عزی کو پکارا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نصر بن حماد دوراق ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نصر بن حماد دوراق ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 10027
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَهْلِ الْقَلِيبِ فَقَالَ : " يَا أَهْلَ الْقَلِيبِ ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ، فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا" . ¤ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ يَسْمَعُونَ مَا تَقُولُ ؟ قَالَ : " مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ ، وَلَكِنَّهُمُ الْيَوْمَ لَا يُجِيبُونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گڑھے والوں کے پاس آ کر ٹھہرے اور فرمایا : ” اے گڑھے والو ! تمہارے پروردگار نے جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے حق پا لیا ہے ؟ کیونکہ میں نے تو اسے حق پا لیا ہے ، جو میرے پروردگار نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ جو ارشاد فرما رہے ہیں ، کیا یہ لوگ اُسے سنتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں جو کہہ رہا ہوں اُسے تم ان کے مقابلے میں زیادہ بہتر نہیں سنتے ہو ، لیکن آج یہ ایسے لوگ ہیں ، جو جواب نہیں دے سکتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10028
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِيدَانَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَشْرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَهْلِ الْقَلِيبِ فَقَالَ : " يَا أَهْلَ الْقَلِيبِ ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَهَلْ يَسْمَعُونَ ؟ قَالَ : " يَسْمَعُونَ كَمَا تَسْمَعُونَ ، وَلَكِنَّهُمْ لَا يُجِيبُونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سِيدَانَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن سیدان ، اپنے والد کا یہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گڑھے والوں کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا : اے گڑھے والو ! تمہارے پروردگار نے جو وعدہ کیا تھا ، کیا تم نے اُسے حق پا لیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ سنتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اسی طرح سنتے ہیں ، جس طرح تم سنتے ہو ، لیکن یہ جواب نہیں دے سکتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عبداللہ بن سیدان نامی راوی مجہول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عبداللہ بن سیدان نامی راوی مجہول ہے ۔