مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ قُتِلَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدْرٍ باب: غزوہ بدر کے موقع مشرکین میں سے قتل ہونے والے افراد کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْقَتْلَى أَنْ يُطْرَحُوا فِي الْقَلِيبِ ، وَطُرِحُوا فِيهِ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ ، فَإِنَّهُ انْتَفَخَ فِي دِرْعِهِ فَمَلَأَهَا ، فَذَهَبُوا لِيُحَرِّكُوهُ فَتَزَايَلَ فَتَرَكُوهُ ، وَأَلْقَوْا عَلَيْهِ مَا غَيَّبَهُ مِنَ التُّرَابِ وَالْحِجَارَةِ ، فَلَمَّا أَلْقَاهُمْ فِي الْقَلِيبِ وَقَفَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا أَهْلَ الْقَلِيبِ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ، فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا ؟ " . قَالَ : فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُكَلِّمُ قَوْمًا مَوْتَى ؟ فَذَكَرَ نَحْوَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مشرکین سے تعلق رکھنے والے ) مقتولین کے بارے میں حکم دیا کہ انہیں گڑھے میں ڈال دیا جائے ، انہیں گڑھے میں ڈال دیا گیا ، صرف امیہ بن خلف کے ساتھ ایسا نہیں ہو سکا ، کیونکہ وہ اپنی زرہ میں پھول گیا تھا ، اور وہ زرہ اس میں پھنس گئی تھی ، لوگوں نے اسے حرکت دینا چاہی تو اس کا جسم ٹوٹ گیا ، تو لوگوں نے اسے وہیں چھوڑ دیا اور اس پر مٹی اور پتھر وغیرہ ڈال دیے ، جب ان لوگوں نے اُن مقتولین کو گڑھے میں ڈال دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی لاشوں کے پاس ٹھہرے اور ارشاد فرمایا : ” اے گڑھے والو ! تمہارے پروردگار نے جو وعدہ کیا تھا ، کیا تم نے اسے سچا پا لیا ہے ؟ میں نے تو اس چیز کو سچا پا لیا ہے ، جو میرے پروردگار نے مجھ سے وعدہ کیا تھا ، آپ کے اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ مرے ہوئے لوگوں کے ساتھ کلام کر رہے ہیں ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔