مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَسْرَى باب: قیدیوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 10017
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَادَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُسَارَى بَدْرٍ ، وَكَانَ فِدَاءُ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَرْبَعَةَ آلَافٍ ، وَقُتِلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ قَبْلَ الْفِدَاءِ ، قَامَ إِلَيْهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَتَلَهُ صَبْرًا قَالَ : مَنْ لِلصِّبْيَةِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " النَّارُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں بدر کے قیدیوں کو پکارا ، اُن میں سے ہر ایک فرد کا فدیہ چار ہزار تھا ، فدیہ وصول کرنے سے پہلے ہی عقبہ بن ابومعیط کو قتل کر دیا گیا ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اُٹھ کر اس کی طرف گئے ، اور انہوں نے اسے باندھ کر قتل کر دیا ، اس نے ( مرنے سے پہلے ) یہ کہا: اے محمد ! بچوں کا کون نگران ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آگ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔