مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَسْرَى باب: قیدیوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّهُ قَالَ لِابْنِ أَبِي مُعَيْطٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ - وَكَانَ غَيْرَ كَذَّابٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِعُنُقِ أَبِيكَ أَنْ تُضْرَبَ صَبْرًا ، ثُمَّ مَرَّ بِهِ فَقَالَ : مَنْ لِلصِّبْيَةِ بَعْدِي ؟ قَالَ : " لَهُمُ النَّارُ " . حَسْبُكَ مَا رَضِيَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤مسروق کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے ابومعیط کے بیٹے سے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی ہے ، اور وہ جھوٹ بولنے والے نہیں تھے انہوں نے یہ بتایا ہے : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے باپ کی گردن اُڑانے کا حکم دیا کہ اسے باندھ کر قتل کر دیا جائے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے ، تو اس نے دریافت کیا : میرے بعد بچوں کا کون نگہبان ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انہیں آگ نصیب ہو گی ۔ ( پھر مسروق نے ، عقبہ بن ابومعیط کے بیٹے سے کہا: ) تمہارے لئے وہ چیز کافی ہے ، جس کے حوالے سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لئے راضی ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔