حدیث نمبر: 10016
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأَقْتُلَنَّ الْيَوْمَ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ صَبْرًا " . قَالَ : فَنَادَى عُقْبَةُ - بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِأَعْلَى صَوْتِهِ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، مَالِي أُقْتَلُ مِنْ بَيْنِكُمْ صَبْرًا قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِكُفْرِكَ بِاللَّهِ ، وَافْتِرَائِكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آج میں قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو باندھ کر ضرور قتل کروں گا “ راوی بیان کرتے ہیں : تو عقبہ بن ابومعیط نے بلند آواز میں پکار کر کہا: اے قریش کے گروہ ! کیا وجہ ہے کہ تم سب کے درمیان مجھے باندھ کر قتل کر دیا جائے گا ؟ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے اللہ تعالیٰ کا کفر کرنے کی وجہ سے اور تمہارے اللہ کے رسول پر افتراء باندھنے کی وجہ سے ( ایسا کیا جائے گا ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن سلمہ بن کہیل ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10016
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1781)»