مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَسْرَى باب: قیدیوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ : قَالَ أَبُو رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : كُنْتُ غُلَامًا لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ وَكَانَ الْإِسْلَامُ قَدْ دَخَلَنَا فَأَسْلَمْتُ ، وَأَسْلَمَتْ أُمُّ الْفَضْلِ ، وَكَانَ الْعَبَّاسُ قَدْ أَسْلَمَ وَلَكِنَّهُ كَانَ يَهَابُ قَوْمَهُ ، وَكَانَ يَكْتُمُ إِسْلَامَهُ ، وَكَانَ أَبُو لَهَبٍ - لَعَنَهُ اللَّهُ - قَدْ تَخَلَّفَ عَنْ بَدْرٍ ، وَبَعَثَ مَكَانَهُ الْعَاصَ بْنَ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، وَكَذَلِكَ كَانُوا يَصْنَعُونَ لَمْ يَتَخَلَّفْ رَجُلٌ إِلَّا بَعَثَ مَكَانُهُ رَجُلًا ، فَلَمَّا جَاءَنَا الْخَبَرُ كَبَتَهُ اللَّهُ وَأَخْزَاهُ ، وَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا قُوَّةً . ¤ قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَمِنْ هُنَا فِي كِتَابِ يَعْقُوبَ مُرْسَلٌ ، لَيْسَ فِيهِ إِسْنَادٌ ، وَقَالَ فِيهِ : أَخُو بَنِي سَالِمِ بْنِ عَوْفٍ ، وَكَانَ فِي الْأُسَارَى أَبُو وَدَاعَةَ بْنُ صُبَيْرَةَ السَّهْمِيُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لَهُ بِمَكَّةَ ابْنًا كَيِّسًا تَاجِرًا ذَا مَالٍ ، لَكَأَنَّكُمْ بِهِ قَدْ جَاءَ فِي فِدَاءِ أَبِيهِ " . وَقَدْ قَالَتْ قُرَيْشٌ : لَا تَعْجَلُوا فِي فِدَاءِ أَسْرَاكُمْ لَا يَتَأَرَّبُ عَلَيْكُمْ مُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُهُ . فَقَالَ الْمُطَّلِبُ بْنُ أَبِي وَدَاعَةَ : صَدَقْتُمْ فَافْعَلُوا ، وَانْسَلَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ ، فَأَخَذَ أَبَاهُ بِأَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ فَانْطَلَقَ بِهِ ، وَقَدِمَ مِكْرَزُ بْنُ حَفْصِ بْنِ الْأَخْيَثِ فِي فِدَاءِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَكَانَ الَّذِي أَسَرَهُ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ أَخُو بَنِي مَالِكِ بْنِ عَوْفٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا بِاخْتِصَارٍ ، وَبَعْضُهُ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُ غَيْرِ الْمُرْسَلِ ثِقَاتٌ . ¤عکرمہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا غلام تھا ، ہم لوگ اسلام قبول کر چکے تھے ، میں اسلام قبول کر چکا تھا سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا اسلام قبول کر چکی تھیں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اسلام قبول کر چکے تھے لیکن وہ اپنی قوم سے خوف زدہ تھے اور اپنے اسلام کو چھپاتے تھے ، ابولہب ، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے ، وہ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوا تھا ، اس نے اپنی جگہ عاص بن ہشام بن مغیرہ کو بھیجا تھا ، وہ لوگ اسی طرح کیا کرتے تھے ، جب کوئی شخص جنگ میں شریک نہیں ہو سکتا تھا ، تو اپنی جگہ کسی اور کو بھیج دیتا تھا ، جب ہمارے پاس اس بارے میں اطلاع آئی ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے ذلت اور رسوائی کا شکار کر دیا اور ہمیں اپنے اندر قوت محسوس ہوئی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، یعقوب کی تحریر میں یہاں ایک ” مرسل “ روایت ہے ، جس کی سند نہیں ہے ، اس میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : ” ان کا تعلق بنو سالم بن عوف سے تھا ، اور ان قیدیوں میں ایک ابووداعہ بن صبیرہ سہمی بھی تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مکہ میں اس کا بیٹا ہے ، جو بڑا سمجھدار تاجر اور مال دار شخص ہے ، وہ جلد ہی اپنے باپ کے فدیے کہ سلسلے میں آ جائے گا ، قریش نے اس دوران یہ کہا: تھا کہ تم لوگ اپنے قیدیوں کا فدیہ دینے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کرنا ، ورنہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے اصحاب تمہارے ساتھ سختی اور زیادتی سے کام لیں گے ، تو مطلب بن ابووداعہ نے کہا: تم لوگ ٹھیک کہہ رہے ہو ، تم ایسا ہی ۔ کرو ، پھر رات کو وہ وہاں سے کھسک کر نکل آیا ، وہ مدینہ منورہ آیا اس نے اپنے باپ کو چار ہزار درہم کے عوض میں چھڑوایا اور اسے ساتھ لے کر چلا گیا ، پھر مکرز بن حفص بن اخیث ، سہیل بن عمرو کے فدیے کے سلسلے میں آیا ، اُسے بنو مالک بن عوف سے تعلق رکھنے والے سیدنا مالک بن دخشم رضی اللہ عنہ نے قیدی بنایا ہوا تھا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کا کچھ حصہ ” مرسل “ ہے ، جو روایت ” مرسل “ نہیں ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ۔