حدیث نمبر: 10012
وَعَنْ أَنَسٍ وَالْحَسَنِ قَالَ : اسْتَشَارَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّاسَ فِي الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمْكَنَكُمْ مِنْهُمْ " . قَالَ : فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ثُمَّ عَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمْكَنَكُمْ مِنْهُمْ ، وَإِنَّمَا هُمْ إِخْوَانُكُمْ بِالْأَمْسِ " . قَالَ : فَقَامَ عُمَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ قَالَ : ثُمَّ عَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِلنَّاسِ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ تَرَى أَنْ تَعْفُوَ عَنْهُمْ ، وَأَنْ تَقْبَلَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ . قَالَ : فَذَهَبَ عَنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ مِنَ الْغَمِّ ، قَالَ : فَعَفَا عَنْهُمْ ، وَقَبِلَ الْفِدَاءَ قَالَ : وَأَنْزَلَ اللَّهُ : لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمِ بْنِ صُهَيْبٍ ، وَهُوَ كَثِيرُ الْغَلَطِ وَالْخَطَأِ ، لَا يَرْجِعُ إِذَا قِيلَ لَهُ الصَّوَابُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور حسن بصری بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے موقع پر قیدیوں کے بارے میں لوگوں سے مشورہ لیا ، آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر ق ابودے دیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ان کی گردنیں اڑا دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا اور پھر آپ نے اپنی بات دہرائی اور ارشاد فرمایا : اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر ق ابودے دیا ہے اور گزشتہ کل یہ تمہارے بھائی تھے ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ان کی گردنیں اڑا دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات دہرائی اور آپ نے لوگوں سے اسی کی مانند بات ارشاد فرمائی تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ مناسب سمجھیں ، تو ان سے درگزر کریں اور ان سے فدیہ قبول کر لیں ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر جو پریشانی تھی ، وہ ختم ہو گئی ، آپ نے اُن سے درگزر کیا اور فدیہ قبول کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پہلے سے طے شدہ نہ ہوتا ( کہ وہ تمہیں عذاب نہیں دے گا ) تو تم نے ( بدر کے قیدیوں سے ) جو وصول کیا ہے اس کی وجہ سے تمہیں ( عظیم عذاب ) لاحق ہونا تھا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اپنے استاد علی بن عاصم بن صہیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ بکثرت غلطی اور خطا کرنے والا شخص ہے ، جب اُس سے درست بات کے لئے کہا: جاتا تھا ، تو وہ رجوع نہیں کرتا تھا ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10012
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (243/3)»