مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَسْرَى باب: قیدیوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كُنْتُ غُلَامًا لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ ، وَكُنْتُ قَدْ أَسْلَمْتُ ، وَأَسْلَمَتْ أُمُّ الْفَضْلِ ، وَأَسْلَمَ الْعَبَّاسُ ، وَكَانَ يَكْتُمُ إِسْلَامَهُ مَخَافَةَ قَوْمِهِ ، وَكَانَ أَبُو لَهَبٍ قَدْ تَخَلَّفَ عَنْ بَدْرٍ ، وَبَعَثَ مَكَانَهُ الْعَاصِ بْنَ هِشَامٍ ، وَكَانَ لَهُ عَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَقَالَ لَهُ : اكْفِنِي مِنْ هَذَا الْغَزْوِ وَأَتْرُكُ لَكَ مَا عَلَيْكَ فَفَعَلَ ، فَلَمَّا جَاءَ الْخَبَرُ ، وَكَبَتَ اللَّهُ أَبَا لَهَبٍ ، وَكُنْتُ رَجُلًا ضَعِيفًا أَنَحَتُ هَذِهِ الْأَقْدَاحَ فِي حُجْرَةِ زَمْزَمَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَجَالِسٌ أَنْحِتُ أَقْدَاحِي فِي الْحُجْرَةِ وَعِنْدِي أُمُّ الْفَضْلِ إِذَا الْفَاسِقُ أَبُو لَهَبٍ يَجُرُّ رِجْلَيْهِ أَرَاهُ قَالَ : حَتَّى جَلَسَ عِنْدَ طُنُبِ الْحُجْرَةِ فَكَانَ ظَهْرُهُ إِلَى ظَهْرِي ، فَقَالَ النَّاسُ : هَذَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ ، [ فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ : هَلُمَّ يَا ابْنَ أَخِي ، فَجَاء أَبُو سُفْيَانَ حَتَّى جَلَسَ عِنْدَهُ ، فَجَاءَ النَّاسُ فَقَامُوا عَلَيْهِمَا فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي كَيْفَ كَانَ أَمْرُ النَّاسِ ؟ قَالَ : لَا شَيْءَ ، وَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ لَقِينَاهُمْ فَمَنَحْنَاهُمْ أَكْتَافَنَا يَقْتُلُونَنَا كَيْفَ شَاءُوا ، وَيَأْسِرُونَنَا كَيْفَ شَاءُوا ، وَايْمُ اللَّهِ مَا لُمْتُ النَّاسَ قَالَ : وَلِمَ ؟ قَالَ : رَأَيْتُ رِجَالًا بِيضًا عَلَى خَيْلٍ بَلَقٍ لَا وَاللَّهِ لَا تَلْبَقُ شَيْئًا ، وَلَا يَقُومُ لَهَا شَيْءٌ قَالَ : فَرَفَعْتُ طُنُبَ الْحُجْرَةِ ، فَقُلْتُ : تِلْكَ وَاللَّهِ الْمَلَائِكَةُ ، فَرَفَعَ أَبُو لَهَبٍ يَدَهُ فَلَطَمَ وَجْهِي ، وَثَاوَرْتُهُ فَاحْتَمَلَنِي فَضَرَبَ بِي الْأَرْضَ حَتَّى نَزَلَ عَلَيَّ ، وَقَامَتْ أُمُّ الْفَضْلِ فَاحْتَجَرَتْ ، وَأَخَذَتْ عَمُودًا مِنْ عُمُدِ الْحُجْرَةِ فَضَرَبَتْهُ بِهِ فَفَلَقَتْ فِي رَأْسِهِ شَجَّةً مُنْكَرَةً ، وَقَالَتْ : أَيْ عَدُوَّ اللَّهِ ، اسْتَضْعَفْتَهُ أَنْ رَأَيْتَ سَيِّدَهُ غَائِبًا عَنْهُ ، فَقَامَ ذَلِيلًا فَوَاللَّهِ مَا عَاشَ إِلَّا سَبْعَ لَيَالٍ حَتَّى ضَرَبَهُ اللَّهُ بِالْعَدَسَةِ فَقَتَلَتْهُ ، فَتَرَكَهُ ابْنَاهُ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً مَا يَدْفِنَاهُ حَتَّى أَنْتَنَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ لِابْنَيْهِ : أَلَا تَسْتَحْيِيَانِ أَنَّ أَبَاكُمَا قَدْ أَنْتَنَ فِي بَيْتِهِ ؟ فَقَالَا : إِنَّا نَخْشَى هَذِهِ الْقُرْحَةَ ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَتَّقِي الْعَدَسَةَ كَمَا يُتَّقَى الطَّاعُونُ ، فَقَالَ رَجُلٌ : انْطَلِقَا فَأَنَا مَعَكُمَا قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا غَسَّلَاهُ إِلَّا قَذْفًا بِالْمَاءِ مِنْ بَعِيدٍ ، ثُمَّ احْتَمَلُوهُ فَقَذَفُوهُ فِي أَعْلَى مَكَّةَ إِلَى جِدَارٍ ، وَقَذَفُوا عَلَيْهِ الْحِجَارَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا غلام تھا ، میں اسلام قبول کر چکا تھا ، سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا بھی اسلام کر چکی تھیں ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بھی اسلام قبول کر چکے تھے ، لیکن وہ اپنی قوم کے خوف کی وجہ سے اپنے اسلام کو چھپاتے تھے ، ابولہب غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکتا تھا اس نے اپنی جگہ عاص بن ہشام کو بھیجا تھا ، جو اس کا مقروض تھا ، اس نے عاص بن ہشام سے یہ کہا: تھا : تم میری جگہ اس جنگ میں حصہ لو ، تمہارے ذمہ جو ادائیگی ہے میں اسے چھوڑ دوں گا ، تو اس نے ایسا ہی کیا ، جب ( جنگ کے نتیجے ) کی اطلاع آ گئی ، تو اللہ تعالیٰ نے ابولہب کو ذلت کا شکار کیا ، میں ایک کمزور شخص تھا ، میں زمزم کے حجرے میں تیروں ( کی لکڑی ) چھیل رہا تھا ، اللہ کی قسم ! میں بیٹھا ہوا حجرے میں تیروں ( کی لکڑی ) چھیل رہا تھا ، میرے پاس سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں ، اس دوران فاسق ابولہب اپنی ٹانگیں گھسیٹتا ہوا آیا ، میں اسے دیکھ رہا تھا یہاں تک کہ وہ خیمے کی طناب کے پاس بیٹھ گیا ، اس کی پشت میری پشت کی طرف تھی ، لوگوں نے کہا: یہ ابوسفیان بن حارث ( آ رہا ہے ) تو ابولہب نے کہا: اے میرے بھتیجے ! میری طرف آ جاؤ ، ابوسفیان آیا اور اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا ، لوگ آئے اور ان دونوں کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے ، ابولہب نے کہا: اے میرے بھتیجے ! لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے جواب دیا : کچھ نہیں ۔ اللہ کی قسم ! جب ہمارا ان سے سامنا ہوا ، تو یوں محسوس ہوا ، جیسے ہم نے اپنے کندھے انہیں تحفے کے طور پر پیش کر دیے ہیں ، تاکہ وہ ہمیں جیسے چاہیں قتل کر دیں ، اور جیسے چاہیں ہمیں قیدی بنا لیں ۔ اللہ کی قسم ! میں اس بارے میں لوگوں کو ملامت نہیں کرتا ، ابولہب نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ ابوسفیان نے کہا: میں نے کچھ گورے چٹے لوگوں کو دیکھا ، جو خوبصورت گھوڑوں پر سوار تھے ، اللہ کی قسم ! اُن کے لئے کوئی چیز نرم نہیں ہوتی تھی اور کوئی چیز ان کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی تھی سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے حجرے کا طناب اُٹھایا اور میں نے کہا: اللہ کی قسم ! وہ فرشتے ہوں گے ، ابولہب اُٹھا ، اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور میرے چہرے پر طمانچہ رسید کر دیا ، میں نے بھی اس پر حملہ کیا اس نے مجھے اٹھایا اور زمین پر دے مارا ، یہاں تک کہ وہ مجھ پر چڑھ گیا ۔ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا انھیں انہوں نے حجرے کی لکڑیوں میں سے ایک لکڑی پکڑی اور وہ لکڑی ابولہب کو ماری تو اس کے سر میں بڑا سا گومڑ نکل آیا سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے دشمن ! تم نے اسے کمزور سمجھ لیا ہے ، جب یہ دیکھا کہ اس کا آقا یہاں موجود نہیں ہے ، تو ابولہب ذلیل ہو کے اٹھ گیا ۔ اللہ کی قسم ! اس کے بعد وہ سات دن زندہ رہا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے عدسہ ( نامی پھوڑے والی بیماری ) میں مبتلاء کر کے موت کا شکار کر دیا ، اُس کے بیٹوں نے دو یا تین راتوں تک اسے ایسی حالت میں رہنے دیا کہ اسے دفن نہیں کیا ، یہاں تک کہ اس کے جسم سے بدبو آنے لگی ، تو قریش کے ایک فرد نے اُس کے دونوں بیٹوں سے کہا: کیا تمہیں اس بات سے شرم نہیں آتی کہ تمہارا باپ گھر میں پڑا ہوا بودار ہو گیا ہے ؟ ان دونوں نے کہا: ہمیں اس پھوڑے کے حوالے سے اندیشہ ہے ، کیونکہ قریش عدسہ نامی پھوڑے سے اُسی طرح بچتے تھے جس طرح طاعون سے بچتے تھے ، تو ایک شخص نے کہا: تم دونوں چلو ! میں تمہارے ساتھ ہوں ، راوی بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! ان دونوں نے اسے غسل نہیں دیا ۔ دور سے اس پر پانی ڈالا پھر اسے اٹھایا اور مکہ کے بالائی حصے میں موجود ایک دیوار کے پاس ڈال دیا اور اس پر پتھر ڈال دیے ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔