حدیث نمبر: 10011
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنْ قَتَلْتَهُمْ دَخَلُوا النَّارَ وَإِنْ أَخَذْتَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ كَانُوا لَنَا عَضُدًا ، وَقَالَ عُمَرُ : أَرَى أَنْ تَعْرِضَهُمْ ثُمَّ تَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ ، فَهَؤُلَاءِ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ ، وَقَادَةُ الْكَفْرِ ، وَاللَّهِ مَا رَضَوْا أَنْ أَخْرَجُونَا حَتَّى كَانُوا أَوَّلَ الْعَرَبِ غَزَانَا . وَهِيَ مُتَّصِلَةٌ ، وَفِيهَا مُوسَى بْنُ مُطَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

امام طبرانی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اگر آپ انہیں قتل کر دیتے ہیں ، تو یہ جہنم میں چلے جائیں گے ، اور اگر آپ ان سے فدیہ وصول کرتے ہیں ، تو ( ہو سکتا ہے ، آگے چل کر ) یہ لوگ ہمارے دست و بازو بن جائیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ انہیں لائیں اور پھر ان کی گردنیں اڑوا دیں ، کیونکہ یہ کفر کے پیشوا ہیں اور کفر کے قائد ہیں ، اللہ کی قسم ! یہ لوگ اس بات پر بھی راضی نہیں ہوئے کہ انہوں نے ہمیں نکلنے پر مجبور کیا تھا ، یہاں تک کہ یہ لوگ عربوں میں ، ہمارے ساتھ جنگ کرنے والے پہلے افراد بن گئے “ ۔
یہ روایت متصل ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن مطیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10011
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10257)»