مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَسْرَى باب: قیدیوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 10007
وَعَنْ أَبِي عَزِيزِ بْنِ عُمَيْرٍ أَخِي مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : كُنْتُ فِي الْأَسْرَى يَوْمَ بَدْرٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْتَوْصُوا بِالْأُسَارَى خَيْرًا " . وَكُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَكَانُوا إِذَا قَدَّمُوا غَدَاءَهُمْ وَعَشَاءَهُمْ أَكَلُوا التَّمْرَ ، وَأَطْعَمُونِي الْبُرَّ لِوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤محمد محی الدین
ابوعزیز بن عمیر ، جو سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں وہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن میں قیدیوں میں تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیدیوں کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو ۔ راوی کہتے ہیں : میں انصار کے درمیان تھا ، وہ لوگ جب ناشتہ کرتے تھے ، یا رات کا کھانا کھاتے تھے ، تو خود کھجوریں کھا لیتے تھے اور مجھے گندم کھلاتے تھے ، ایسا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی وجہ سے تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔