حدیث نمبر: 10008
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا تَقُولُونَ فِي هَذِهِ الْأَسْرَى ؟ " . قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ - رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ - : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَوْمُكَ وَأَهْلُكَ اسْتَبْقِهِمْ وَاسْتَأْنِ بِهِمْ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ . ¤ قَالَ : وَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْرَجُوكَ وَكَذَّبُوكَ ، قَرِّبْهُمْ فَاضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ . قَالَ : وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْظُرْ وَادٍ كَثِيرَ الْحَطَبِ فَأَدْخِلْهُمْ فِيهِ ثُمَّ أَضْرِمْهُ عَلَيْهِمْ نَارًا . ¤ قَالَ : فَقَالَ الْعَبَّاسُ : قَطَعْتَ رَحِمَكَ . قَالَ : فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ نَاسٌ : يَأْخُذُ بِقَوْلِ أَبِي بَكْرٍ . وَقَالَ نَاسٌ : يَأْخُذُ بِقَوْلِ عُمَرَ . وَقَالَ نَاسٌ : يَأْخُذُ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ . ¤ قَالَ : فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُلِينُ قُلُوبَ رِجَالٍ فِيهِ حَتَّى تَكُونَ أَلْيَنَ مِنَ اللَّبَنِ ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَشْدُدْ قُلُوبَ رِجَالٍ فِيهِ حَتَّى تَكُونَ أَشَدَّ مِنَ الْحِجَارَةِ ، وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ، وَمَثَلُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ عِيسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ . وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا عُمَرُ كَمَثَلِ نُوحٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا ، وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا عُمَرُ كَمَثَلِ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ ، أَنْتُمْ عَالَةٌ فَلَا يَنْقَلِبَنَّ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا بِفِدَاءٍ أَوْ ضَرْبَةِ عُنُقٍ " . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا سُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاءَ فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ الْإِسْلَامَ قَالَ : فَسَكَتَ . قَالَ : فَمَا رَأَيْتُنِي فِي يَوْمٍ أَخْوَفَ أَنْ يَقَعَ عَلَيَّ حِجَارَةٌ مِنَ السَّمَاءِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ حَتَّى قَالَ : " إِلَّا سُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاءَ " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ إِلَى قَوْلِهِ : ( مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ) . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ طَرَفًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیدیوں کے بارے میں تم لوگ کیا کہتے ہو ؟ راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ آپ کی قوم اور آپ کے اہل خانہ کے لوگ ہیں ، آپ ان سے فدیہ لے لیں اور انہیں چھوڑ دیں ، ہو سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ انہیں توبہ کی توفیق دیدے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انہوں نے آپ کو ( مکہ مکرمہ سے ) نکلنے پر مجبور کیا تھا ، آپ کو جھٹلایا تھا ، آپ انہیں آگے کروا کے ان کی گردنیں اڑوا دیں ۔ راوی کہتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کسی وادی کا جائزہ لیں ، جس میں بہت ساری لکڑیاں ہوں ، ان لوگوں کو ( اس وادی میں ) داخل کریں اور پھر ان پر آگ جلوا دیں ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے قطع رحمی کی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لے گئے ، آپ نے ان لوگوں کو کوئی جواب نہیں دیا ، کچھ لوگوں نے کہا: آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مشورے کو قبول کر لیں گے ، کچھ لوگوں نے کہا: آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مشورے کو قبول کریں گے کچھ نے کہا: آپ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے مشورے کو قبول کریں گے ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن لوگوں کے پاس تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کے دلوں کو اتنا نرم کرتا ہے کہ ان میں اتنی نرمی ہوتی ہے کہ وہ دل ، دودھ سے زیادہ نرم ہوتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کے دلوں کو سخت کر دیتا ہے اور وہ اتنے سخت ہو جاتے ہیں کہ پتھر سے زیادہ سخت ہوتے ہیں ، اے ابوبکر ! تمہاری مثال سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی مانند ہے ، جنہوں نے یہ کہا: تھا : ” جو شخص میری پیری کرے گا ، اُس کا مجھ سے تعلق ہو گا ، اور جو میری نافرمانی کرے گا تو ، تو بے شک اللہ بخشش کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے “ اے ابوبکر ! تمہاری مثال سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی مانند ہے ( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ) انہوں نے یہ کہا: ” اگر تو انہیں عذاب دے ، تو یہ تیرے بندے ہیں ، اور اگر تو ان کی مغفرت کر دے ، تو بے شک تو غلبے والا ، حکمت والا ہے “ ۔ اے عمر ! تمہاری مثال سیدنا نوح علیہ السلام کی مانند ہے ( جن کی دعا کا ذکر قرآن میں ، ان الفاظ میں ہے : ) ” اے میرے پروردگار ! تو روئے زمین پر کسی کافر کو بستا ہوا نہ چھوڑنا “ اے عمر ! تمہاری مثال یوں ہے ، جیسے سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے یہ کہا: تھا : ( جس کا ذکر قرآن میں ہے : ) ” تو ان کے دلوں کو سخت کر دے ، یہاں تک کہ یہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں ، جب تک یہ دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے “ ۔ ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) تم لوگوں کی مالی حالت کمزور ہے ، ان میں سے کوئی بھی شخص فدیہ دیے ، بغیر یا گردن اڑوائے بغیر نہیں جائے گا ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! البتہ سہیل بن بیضاء کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ میں نے اسے اسلام کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ۔ راوی کہتے ہیں : مجھے اُس دن سے زیادہ خوف اپنے بارے میں کبھی محسوس نہیں ہوا ، مجھے یہ ڈر تھا کہ کہیں اُس دن مجھ پر آسمان سے پتھر نازل نہ ہوں ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سہیل بن بیضاء کا معاملہ مختلف ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پہلے سے طے شدہ نہ ہوتا ( کہ وہ تمہیں عذاب نہیں دے گا ) تو تم نے ( بدر کے قیدیوں سے ) جو وصول کیا ہے اس کی وجہ سے تمہیں عظیم عذاب لاحق ہونا تھا “ ۔ یہ آیت ( بھی اس سے متعلق ) ہے : ” نبی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ ( کفار ) اس کے پاس قیدیوں کے طور پر ہوں ( اور وہ فدیہ وصول کر لے ) اسے تو زمین میں خون بہانا چاہیے ، تم لوگ دنیاوی مال و اسباب چاہتے ہو ، اور اللہ تعالیٰ ( تمہارے لیے ) آخرت ( کی بھلائی ) کا ارادہ رکھتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ غالب ( اور ) حکمت والا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10008
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1058) اخرجه احمد فى المسند (3632)»